دوست مر گیا ہے۔اس نے جواب دیا کہ تجھ کو پہلے سوچ لینا چاہیے تھا۔مرنے والے کے ساتھ دوستی ہی کیوں کی؟ دنیا عجیب مشکلات کا گھر ہے۔بیوی بثوں کے نہ ہونے سے بھی غم ہتوا ہے اور اگر ہوں تب بھی مشکلات پیدا ہوتے ہیں۔ان کی ضروریات کے پورا کرنے کے لئے بعض نادان انسان عجیب عجیب مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں اور صراط مستقیم سے ہٹ کر ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مال بہم پہنچاتے ہیں اور پھر اور مشکلات میں پھنستے ہیں۔ایک فقیر ننگ دھڑگن جس کے پاس ستر پوشی کے سوا اور کوئی کپڑا تک نہ تھا خوش و خرم کھیلتا کودتا جارہا تا۔کسی سوار نے اس سے پوچھا کہ سائیں صاحب آپ ایسے خوش کیوں ہیں؟ اس نے کہا کہ جس کی مرادیں حاصل ہو جائیں وہ خوش ہوتا ہے کہ نہیں؟ سوار نے کہا کہ تیری ساری مرادیں کس طرح پوری ہو گئی ہیں؟ اس نے کہا کہ جب خواہشیں چھوڑ دیں تو مرادیں پوری ہو گئیں۔ بات بالکل ٹھیک ہے۔انسان دو طرح ہی خوش ہو سکتا ہے یا تو حصول مراد کے ساتھ یا ترک مراد کے ساتھ اور ان میں سہل طریق ترک مراد کا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ سب کی زندگی تلخ ہے بجز اس کے جو اس دنیا کے علاقوں سے الگ ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات بادشاہوں نے بھی ان تلخیوں اور ناکامیوں سے عاجز آکر خودکشی کر لی ہے۔ لذات دنیا کی مثال دنیا کی لذت خارش کی طرح ہے۔ابتداء لذت آتی ہے۔پھر جب کھجلاتا رہتا ہے تو زخم ہو کر اس میں سے خون نکل آتا ہے۔یہاںتک کہ اس میں پیپ پڑ جاتی ہے اور وہ نا سور کی طرح بن جاتا ہے اور اس میں درد بھی پیدا ہو جاتا ہے۔حقیقت یہی ہے کہ یہ گھر بہت ہی ناپائیداد اور بے حقیقت ہے۔مجھے کئی بار خیال آیا ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ کسی مردے کو اختیار دیدے کہ وہ پھر دنیا میں چلا جاوے تو وہ یقینا تو بہ کر اُٹھے کہ میں اس دنیا سے باز آیا۔خدا تعالیٰ پر سچا ایمان ہو تو انسان ان مشکلات دنیا سے نجات پاسکتا ہے،کیونکہ وہ درد مندوں کی دعائوں کو سن لیتا ہے مگر اس کے لئے یہ شرط ہے کہ دعائیں مانگنے سے انسان تھکے نہیں تو کامیاب ہوگا۔اگر تھک جاوے گا تو نری ناکامی نہیں بلکہ ساتھ بے ایمانی بھی ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے بدظن ہو کر سلب ایمان کر بیٹھے گا۔مثلا ایک شخص کو اگر کہا جاوے کہ تو اس زمین کو کھود ۔خزانہ نکلے گا مگر وہ دوچار پانچ ہاتھ کھودنے کے بعد اُسے چھوڑ دے اور دیکھے کہ خزانہ نہیں نکلا تو وہ اس نامرادی اور ناکامی پر ہی نہ رہے گا بلکہ بتانے والے کو بھی گالیاں دے گا‘ حالانکہ یہ اس کی اپنی کمزوری اور غلطی ہے جو اُس نے