نے تجدیدِ دین کی کوئی تجویز نہ کی اور بجائے تجدید کے دجال بھیج کر ا سکی تخریب کی۔اس وقت تیس لاکھ مسلمان عیسائی ہو ثکا ہے۔یہ وہ قوم تھی اگر اس مٰں اسے ایک شخص بھی عیسائی ہوتا تھا تو حشر بپا ہو جاتا تھا۔دوسری طرف ایک اور خبیث قوم نے سر اُٹھایا ہے وہ مسلمانوںں کو پکڑ پکڑ کر آریہ بنا رہی ہے،مگر ان ہمارے مسلمانوں کو یہیخیال آتا ہیکہ ابھی ہمارے اندر دجال ہی پید اہوا ہے اور خد انے بھی ان کے ساتھ دھوکا کیا کہ دجال کو صدی کے سر پر بھیجا تا کہ اُن کی رہی سہی امید بھی باقی نہ رہے۔معلوم ہوا کہ تمہار ے اندر بڑے بڑے خبث اور گناہ پوشیدہ ہیں جس کی تمہیں یہ سزا مل رہی ہے۔خدا تعالیٰ نے تو فرمایا ہے انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر : ۱۰) ہم ہی نے اس قرآن کو نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔یعنی جب اس کے معانی میں غلطیان وارد ہوں گی تو اصلاح کے لیے ہمرے مامور آیا کریں گے۔پس تم میریے اوپر خیال مت کرو بلکہ صدی کے ابتدا اور بیرونی حملوں اور اندرونی اعمال کو دیکھ کر تم خود غورو فکر کرو کہآیا دجال کی ضرورت ہے یا مہدی اور مسیح کی؟ تعصب بری بلا ہوتی ہے۔تعصب والوں نے تو کسی رسول کو بھی نہیں مانا ان کو دکاندار قرار دیا ہے؛ حالانکہ وہ خدا کی طرف بلاتے رہے ہیں۔معلوم ہوت اہے کہ یہ قوم ہمیشہ ساتھ رہی ہے اور رہے گی۔قرآن کریم کی ابتداء بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم سے ہے۔رحمن بے مانگے دینے والا اور رحیم محنت کو نہ ضائع کرنے والا۔پس اس وقت رحمانیت اور رحیمیت کہان گئی؟ سوچو تو سہی کہ یہ اس کے مناسب حال ہے یا کیا؟ اصل میں جب انسان تعصب پر آت ہے تو آنک دھندلی ہو جاتی ہے اور جب اس میں ترقی کرتا ہے تو وہ نور چھین لیا جاتا ہے۔پس ہدایت پانے کا طریق اشتہار بازوی نہیں۔ان لوگوں سے پوچھو کہ تم ایک دفعہ بھی میرے پاس آئے ہو اور اپنے اعتراضات کا جواب پوچھا ہے یا کم سے کم میری تصانیف کو ہی دیکھ اہے؟ تو جواب دیں گے کہ میاں ہم کو ان باتوں کی فرصت نہیں۔پھر تم نے جھٹ دجال کا فتویٰ کیوں لگا دیا؟ پھر ہم نے دین میں کونسی تحریف کی ہے۔تم منہ سے نماز اور روزہ کا نام لیتے ہو اور میں کہتا ہوں کہ ان کی روحانیت لو۔صرف میں ہی نہیں کہتا،بلکہ وہ خدا کہتا ہے جس نے مجھے مامور کیا ہے اور یہ اس لیے کہ تمہارے پوست میں کیفیت داخل ہو جاوے۔ ‏Amira 8-8-05 ہاں تمہارے درمیاں مسیح کا جھگڑا ضرور ہے لیکن خد اکی کلام سے زیادہ سچا گواہ اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ہمیں دوسرے کے قول سے کیا غرض ہے۔آنحضرت ﷺ کے قول حق اور سچ ہین مگر جو قرآن کریم کے خلاف نہ ہوں۔پس ہمیں ایمان محفوظ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ایسے قصوں پر جو احادیث