ہے تو سخت بیزاری ہے ایسے اسلام سے مگر ہرگز اسلام ایسا مذہب نہیں۔آنحضرت ﷺ تو وہ مائدہ لائے ہیں کہ جو چاہے اس کو حاصل کرے۔وہ نہ تو دنیا کی دولت لائے اور نہ مہاجن بنکر آئے تھے۔وہ تو خدا کی دولت لائے تھے اور خود اس کے قاسم تھے۔پس اگر وہ مال دنیا نہیں تھا تو کیا وہ گٹھڑی واپس لے گئے؟ پس سچ ہے جس اندھے کے پاس روشنی موجود نہیں وہ کیسے دعویٰ کرسکتا ہیکہ میں روشنی رکھتا ہوں اور تقسیم کر سکتا ہوں۔دیکھو اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے
من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرۃ اعمی واضل سبیلا (بنی اسرائیل : ۷۳)
انبیاء تو علیٰ درجہ البصیرۃ ہوتے ہیں۔پس جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ وہ بصیرت کسی کو نہیں ملے گی تو گویا یہ خود اس دنیا سے اندھے ہی جائیں گے۔
اگر ان کا ایمان آنحضرت ﷺ پر سچا ہوت اتو یہ یقین رکھتے کہ وہ آسمانی مال تقسیم کرنے آئے تھے اور ان کا عقیدہ یہ ہوتا کہ یہ اُمت تمام اُمتوں سے فوقیت حاصل کرے گی؛ حالانکہ مانتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑکی ماں کو وحی ہوتی تھی۔اب بتائو کہ اُن کے مردوں کو بھی کبھی ایسی وحی ہوئی ہے۔لاہور میں ایک مولوی سے میری بحث ہوئی محدث کے لفظ پر۔کہحدیثوں میں آیا ہے کہ محدث وہ ہے جو خد اسے مکالمہ کر سکے اور یہ بات حضرت عمرؓ کے متعلق تھی تو اس مولوی نے جواب دیا کہ چونکہ اسلام کو آنحضرت ﷺ کے بعد مکالمۂ الٰہی نصیب نہیں۔اس لیے حضرت عمرؓ کو یہ عہدہ نصیب نہیں ہوا۔گویا اس امت میں تو دجال ہی آتے رہیں گے۔
مسیح موعود کی بعثت
مسیح کے متعلق جس زمانہ کی اطلاع احادیث وغیرہ میں دی گئیے ہے وہ یہی زمانہ ہے۔سورۂ نور اور بخاری میں منکم کا لفظ صاف ہے۔آثا تمام نمودار ہو گئے ہیں۔کسوف و خسوف رمضان میں ہوگیا۔طاعون آگئی۔یہ کیسے کھلے نشان تھے،لیکن لوگ ہمیشہ یہی کہتے ہین کہ ہمیشہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔نہ تو یہ ہارتے ہیں اور نہ خدا ہارنے والا ہے۔آخر تم جانتے ہو کہ نتیجہ کیا ہوگا یہی یکہ وہ پاک خدا جیتے گا۔باوجود اس قدر کھلے نشانات کے جواب یہ دیتے ہیں کہ تیس دجالوں میں سے یہ بھی اییک دجال ہے۔او کم بختو! تمہارے حصہ میں دجال ہی دجال رہ گئے ہیں؟ بیرونی اور اندرونی بلائیں تم پر آیں اور خد اکی طرف سے بھی آیا تو دجال ہی آیا۔اول تو تم خود بخود مرتے جاتے تھے۔اب ایسی حالت میں خ نے تم سے یہ سلوک کیا کہ مرتے کو مارنے کی تجویز ٹھہرائی ۔کی خد اکو تم سے کوئی ایسی ہی سخت عداوت تھی کہ سختی پر سختی کر رہا ہے۔یہ انسنی غلطیاں ہیں تم لوگ ان سے ہوشیار رہو۔خدا تعالیٰ بڑ اکریم و رحیم ہے۔جب کسی کپڑے پر ہفتہ گذرجاتا ہے تو فکر لگ جاتی ہے کہ اس کو صاف کرایا جاوے۔پھر کیا وجہ ہے کہ دنای پر سوکی جگہ ایک سو بیس برس گذر گئے پر خدا