کہ ہم پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھو کہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔وہ شخص تو تمہاری آواز سنکر تم کو جواب دیگا مگر جب وہ دور سے جواب دے گا تو تم بہ باعث بہرہ پن کے سن نہیں سکوگے۔پس جوں جوں تمہارے درمیانی پردے اور حجاب اور دوری دور ہوتی جاوے گی، تو تم ضرور آواز کو سنو گے۔جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں سے ہمکلام ہوتاہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہو جاتی کہ اس کی ہستی ہے بھی۔پس خد اکی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبر دست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اس کی آواز کو سن لیں یا دیدار یاگفتار ۔پس آج کل کاگفتار قائمقام ہے دیدار کا۔ہاں جبتک خد اکے اور اس سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اس وقت تک ہم سن نہیں سکتے۔جب درمیانی پردہ اُٹھ جاوے گا تو اُس کی آواز سنائی دے گی۔
بعض لوگ کہہ دیتے ہین کہ تیرہ سو برس سے خد اکا مکالمہ مخاطبہ بند ہو گیا۔اس کا اصل میں مطلب یہ ہے کہ اندھا سب کو ہی اندھا سمجھتا ہے۔کیونکہ اس کی اپنی آنکھوں میں جو نور موجود نہیں۔اگر اسلام میں یہ شرف بذریعہ دعائوں اور اخلاص کے نہ ہوت اتو پھر اسلام کچھ چیز بھی نہ ہوتا۔اور یہ بھی اور مذاہب کی طرح مردہ مذہب ہو جاتا۔
اسلام کا خاص امتیاز
پس تم ان مردوں کی طرف خیال مت کرو۔جو خود بھی مردہ اور اسلام کو بیھ مردہ بتاتے ہیں۔یہ تو درحقیقت ایسا مذہب ہے کہ جس میں انسان ترقی کرتا ہوا فرشتوں سے مصافحہ جا کرتا ہے۔اور اگر یہ بات نہ تھی تو
صراط الذین انعمت علیہم (الفاتحہ : ۷)
کیوں سکھایا؟ اس میں صرف جسمانی اموال کی طلب نہیں کی گئی بلکہ روحانی انعام کی درخواست ہے۔پس اگر تم نے ہمیشہ اندھا ہی رہنا ہے تو پھر تم مانگتے کیا ہو؟ یہ دعا فاتحہ ایسی جامع اور عجیب دعا ہے کہ پہلے کبھی کسی نبی نے سکھلائی ہی نہیں۔پس اگر یہ نرے الفاظ ہی الفاظ ہیں اور ان کو خد تعالیٰ نے منظور نہیں کرنا تو ایسے الفاظ خد انے ہمیں کیوں سکھلائے ۔اگر تمہیں وہ مقام ملنا ہی نہیں تو ہم پانچ وقت کیوں ضائع کرتے ہیں۔خدا کی ذات میں بخل نہیں اور نہ انبیاء اس لیے آتے ہیں کہ ان کو پوجا کی جاوے بلکہ اس لیے کہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ ہماری راہ اختیار کرنے والے ہمارے ظل کے نیچے آجاویں گے جیسے فرمایا
ان کنتم تحبون اﷲ فاتبعونی یحببکم اﷲ (آل عمران : ۳۲)
یعنی میری پیروی میں تم خدا تعالیٰ کے محبوب بن جاوئو گے۔آنحضرت ﷺ پر محبوب ہونے کی بدولت یہ سب اکرام ہوئے،مگر جب کوئی اور شخص محبوب بنے گا تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا؟ اگر اسلام ایسا مذہب