کے نزدیک درجہ پاتے ہیں۔اور بعض چالیس چالیس برس سے نماز پڑھتے ہین مگ ہنوز روزِ اول ہی ہے اور کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔تیس روزوں سے کوئی فائدہ محسوس نہیں کرتے۔بہت لوگ کہتے ہیں کہ ہم بڑے متقی اور مدت کے نماز خواں ہیں مگر ہمیں امدادِ الٰہی نہیں ملتی۔اس کا سبب یہ ہے کہ رسمی اور تقلیدی عبادت کرتے ہیں۔ترقی کا کبھی خیال نہیں۔ گناہوں کی جستجو ہی نہیں۔سچی توبہ کی طلب ہی نہیں۔پس وہ پہلے قدم پر ہی رہتے ہیں۔ایسے انسان بہائم سے کم نہیں ۔ایسی نمازیں خد اکی طرف ویل لاتی ہیں۔نماز تو وہ ہے جو اپنے ساتھ ترقی لے آوے۔جیسے طبیب کے زیر علاج ایک بیمار ہے۔ایک نسخہ وہ دس روز استعمال کرت ہے۔پھر اس سے اس کو روز بروز نقصان ہو رہا ہے۔جب اتنے دنوں کے بعد فائدہ نہ ہو تو بیمار کو شک پڑجاتا ہے کہ یہ نسخہ ضرور میرے مازج کے موافق نہیں اور یہ بدلنا چاہیے ۔پس رسم اور رسمی عبادت ٹھیک نہیں۔ دعائوں کی اہمیت نمازوں میں دعائیں اور درود ہیں۔یہ عربی زبان میں ہیں،مگ تم پر حرام نیں کہ نمازوں میں اپنی زبان میں بھی عائیں مانگ ا کرو؛ ورنہ ترقی نہ ہوگی۔خدا کا حکم ہے کہ نماز وہ ہیجس میں تضرع اور حض٭ر قلب ہو۔ایسے ہی لوگوں کے گناہ دور ہوتے ہیں؛ چنانچہ فرمایا ان الحسنات یذھبن السیات (ھود : ۱۱۵) یعنی نیکیان بدیوں کو دور کرتی ہیں۔یہاں حسنات کے معنے نماز کے ہیں اور حضور ور تضرع اپنی زبان میں مانگنے سے حاصل ہوت اہے۔پس کبھی کبھی ضرور اپنی زبان میں دعا کیا کرو اور بہترین دعا فاتحہ ہے کیونکہ وہ جامع دعا ہے۔ جب زمیندار کو زمینداری کا ڈھب آجاوے تو وہ زمینداری کے صراط مستقیم پر پہنچ جاوے گا اور کامیاب ہو جاوے گا۔اسی طرح تم خدا کے ملنے کی صراط مستقیم تلاش کرو اور دعا کرو کہ یا الٰہی میں تیرا گنہگار بندہ ہوں اور افتادہ ہوں۔میری راہنمائی کر۔ادنیٰ اوار اعلیٰ سب حاجتیں بغیر شرم کے خدا سے مانگو کہ اصل معطی وہی ہے۔بہت نیک وہی ہے جو بہت دعا کرتا ہے؛ کیونکہ اگر کسی بخیل کے دروازہ پر سولی ہر روز جا کر سوال کرے گا تو آخر ایک دن اس کو بھی شرم آجاوے گی۔پھر خدا تعالیٰ سے مانگنے والا جو بے مثل کریم ہے کیوں نہ پائے؟ پس مانگنے والا کبھی نہ کبھی ضرور پالیتا ہے۔نماز کا دوسرا نام دعا بھی ہے۔جیسے فرمایا ادعونی استجب لککم (مومن : ۶۱) پھر فرمایا واذاسالک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (البقرۃ : ۱۸۷) جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے۔لپس میں بہت ہی قریب ہوں ۔میں پکارنے والے کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔بعض لوگ اس کی ذات پر شک کرتے ہیں۔پس میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو۔میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا اور تمہیں یاد کروں گا۔ اگر یہ کہو