کہنا چاہتا ہوں یہ بیعت تخم ریزی ہے اعمالِ صالحہ کی۔جس طرح کوئی باغبان درخت لگاتا ہے یا کسی چیز کا بیج بوتا ہے۔پھر اگر کوئی شخص بیج بوکر یا درخت لگا کر وہیں اس کو ختم کردے اور آئندہ آبپاشی ور حفاظت نہ کرے تو وہ تخم بھی ضائع ہو جاوے گا۔اسی طرح انسان کے ساتھ شیطان لگا رہتا ہے۔پس اگر انسنا نیک عمل کرکے اس کے محفوظ رکھنے کی کوشش نہ کرے تو وہ عمل ضائع ہو جاتا ہے۔تمام مخلوقات مثلاً مسلمان ہی سہی اپنے مذاہب کے فرائض میں پابند ہیں مگر اس میں کوئی ترقی نہیں کرتے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نیک عمل کے بڑھانے کا خیال اُن کو نہیں ہوتا اور رفتہ رفتہ وہ عمل رسم میں داخل ہو جاتا ہے۔پس مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوئے تو کلمہ پڑھنے لگے۔ہندوئوں کے گھر میں ہوتے تو رام رام کرتے۔
یاد رکھو بیعت کے وقت توبہ کے اقرار میں ایک برکت پیدا ہوتی ہے۔اگر ساتھ اُس کے دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کی شرط لگالے تو ترقی ہوتی ہے۔مگر یہ مقدم رکھنا تمہارے اختیار میں نہیں بلکہ امدادِ الٰہی کی سخت ضرورت ہے۔جیسے اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے
والذین جاھدو ا فینا لنھدینہم سبلنا (العنکبوت : ۷۰)
کہ جو لوگ کوشش کرتے ہیں۔ہماری راہ میں انجام کار راہنمائی پر پہنچ جاتے ہیں۔جس طرح وہ دانہ تخم ریزی کا بدوں کو شش اور آبپاشی کے بے برکت رہتا بلکہ خود بھی فنا ہو اجت اہے۔اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے اور دعائیں نہ مانگو گے کہ خدایا ہماری مدد کر تو فضل الٰہی و ارد نہیں ہوگ ااور بغیر امدادِ الٰہی کے تبدیلی نا ممکن ہے۔چور، بد معاش ،زانی وغیرہ جراتم پیشہ لوگ ہر وقت ایسے نہیں رہتے بلکہ بعض وقت ان کو ضرور پشیمانی ہوتی ہے۔یہی حال ہر بدکار کا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان میں نیکی کا خیال ضرور ہے۔پس اس خیال کے واسطے اس کو امدادِ الٰہی کی بہت ضرورت ہے۔اسی لیے پنجوقتہ نماز میں سورۃ فاتحہ کے پڑھنے کا حکم دیا۔اس میں ایاک نعبد اور پھر ایاک نستعین یعنی عبادت بھی تیری ہی کرتے ہیں اور مدد بھی تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔اس میں دوباتوں کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔یعنی ہر نیک کام میں قویٰ ،تدابیر، جدوجہد سے کام لیں۔یہ اشارہ ہے نعبد کی طرف۔کیونکہ جو شخص نری دعا کرتا اور جدوجہد نہیں کرتا وہ بہرہ یاب نہیں ہوتا۔جیسے کسان بیج بوکر اگر جدوجہد نہ کرے تو پھل کا امید وار کسیسے بن سکتا ہے۔اور یہ سنت اﷲ ہے۔اگر بیج کو صرف دعا کرتے ہیں تو ضرور محروم رہیں گے۔مثلاً دو کسان ہیں ایک تو سخت محنت اور کلبہ رانی کرتا ہے۔یہ تو ضرور زیادہ کامیاب ہوگا۔دوسرا کسان محنت نہیں کرت یا کم کرتا ہے۔اس کی پیداوار ہمیشہ ناقص رہے گی جس سے وہ شاید سرکاری محصول بھی ادا نہ کر سکے اور وہ ہمیشہ مفلس رہے گا۔اسی طرح دینی کام بھی ہیں۔انہیں میں منافق،انہیں میں نکمے، انہیں میں صالح،انہیںمیں ابدال،قطب،غوث، بنتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ