حصول کمال کے لیے مجاہدہ شرط ہے اس قسم کے لوگ ہمیشہ گذرے ہیں جو چاہتے ہیں کہ بغیر کسی قسم کی محنت اور تکلیف اور سعی اور مجاہدہ کے وہ کمالات حاصل کر لیں جو مجاہدات سے حاصل ہوتے ہیں۔صوفیاء کرام کے حالات میں لکھ اہے کہ بعض لوگوں نے آکر اُن سے کہا کہ کوئی ایسا انتظام ہو کہ ہم پھونک مارنے سے ولی ہو جاویں۔ایسے لوگوں کے جواب میں انہوں نے یہی فرمایا کہ پھونک کے واسطے بھی تو قریب ہونے کی ضرورت ہے،کونکہ پھونک بھی دور سے نہیں لگتی۔ قرآن شریف میں اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے لیس للانسان الا ما سعی (النجم : ۴۰) یعنی کوئی انسان بغیر سعی کے کمال حاصل نہیں کرسکتا۔یہ خد اتعالیٰ کا مقرر کردہ قانون ہے۔پھر اس کے خلاف اگر کوئی کچھ حاصل کرنا چاہے تو وہ خدا تعالیٰ کے قانون کو توڑتا ہے اور اسے آزماتا ہے۔اس لیے محروم رہے گا۔دنیا کے عام کاروبار میں بھی تو یہ سلسلہ نہیں ہے کہ پھونک مار کر کچھ حاصل ہو جائے یا بدوں سعی اور مجاہدہ کے کوئی کامیابی مل سکے۔دیکھو۔آپ شہر سے چلے تو اسٹیشن پر پہنچے۔اگر شہر سے ہی نہ چلتے تو کیونکر پہنچتے۔پائوں کو حرکت دینی پڑتی ہے یا نہیں؟ اسی طرح سے جب قدر کاروبار دنیا کے ہیں سب میں اول انسان کو کچھ کرنا پڑتا ہے۔جب وہ ہاتھ پائوں ہلاتا ہے تو پھر اﷲ تعالیٰ بھی برکت ڈال دیتا ہے۔اسی طرح پر خدا تعالیٰ کی راہ میں وہی لوگ کمال حاصل کرتے ہیں جو مجاہدہ کرتے ہیں۔اسی لیے فرمایا ہے والذین جاھدو افینا لنھدینھم سبلنا (العنکبوت : ۷۰) پس کوشش کرنی چاہیے کیونکہ مجاہدہ ہی کامیابیوں کی راہ ہے۔؎ٰ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۰۴ء؁ بعد نماز جمعہ بیعت کی اہمیت میں ان لوگوں کے لیے جنہوں نے بیعت کی ہے چند نصیحت آمیزکلمات