اس پر حضور ؑ نے فرمایا کہ : مسلمانوں کے معبد میں یہ ایک بے نظیر نمونہ ہے کہ سب کو یکساں نظر سے دیکھ اجاتا ہے۔ مولان حکیم نورالدین صاحب نے عرض کی کہ ہماری مسجد میں تو خود امام الوقت بھی مقتدی بنکر نماز پڑھتا ہے۔ مہمان خانہ کے منتظمین کے لیے ہدایات مہمان کی تواضع کے متعلق آپ نے فرمایا کہ : لنگرخانہ کے مہتمم کو تاکید کر دی جاوے کہوہ ہر ایک شخص کی اختیاج کو مد نظر رکھے مگر چونکہ وہ اکیلا آدمی ہے اور کام کی کثرت ہے ممکن ہے کہ اُسے خیال نہ رہتا ہے، اس لیے کوئی دوسرا شخص یاد دلا دیا کرے۔کسی کے میلے کپڑے وغیرہ دیکھ کر اس کی تواضع سے دست کش نہ ہوان چاہیے،کیونکہ مہمان تو سب یکساں ہی ہوتے ہیں اور جو نئے ناواقف آدمی ہیں تو یہ ہمارا حق ہیکہ اُن کی ہر ایک ضرورت کو مد نظر رکھیں۔بعض وقت کسی کو بیت الخلا کا ہی پتہ نہیں ہوت اتو اُسے سخت تکلیف ہوتی ہے۔اس لیے ضروری ہے کہ مہمانوں کی ضروریات کا بڑا خیال رکھ اجاوے۔میں تو اکثر بیمار رہتا ہوں، اس لیے معذور ہوں۔مگر جن لوگوں کو ایسے کاموں کے لیے قائمقام کیا ہے یہ ان کا فرض ہے کہ کسی قسم کی شکایت نہ ہونے دیں۔کیونکہ لوگ صدہا اور ہزار ہا کوس کا سفر طے کرکے صدق اور اخلاص کے ساتھ تحقیق حق کے واسطے آئے ہیں۔پھر اگر ُن کو یہاں تکلیف ہوتو ممکن ہے کہ رنج پہنچے اور رنج پہنچنے سے اعتراض بھی پید اہوتے ہیں اس طرح سے ابتلا کاموجب ہوتا ہے۔اور پھر گناہ میزبان کے ذمہ ہوتا ہے۔ بیان کیا گیا کہ حضور بعض لوگ جو مسافر خانہ میں نوواردوں سے مذہبی مناظرے شروع کردیتے ہیں اور اس میں وہ اپنے خیل اور رائے کے موافق کلام کرتے ہٰں جو کہ بعض اوقات بے محل اور حضور کے منشا کے خلاف بھی ہوتی ہے اور نووارد متلا شی بھی اس سے اندازہ لگاتا ہے کہ یہاں کے لوگوں کا یہی مشرب ہوگا؛ حالعانکہ یہ بالکل غلطی ہوتی ہے اور اس کا نتیجہ نوواردوں کے لیے ابتلا ہوتاہے۔ حضور ؑ نے تجویز فرمایا کہ : اس قسم کی کلام ہرگز نہ ہونی چاہیے۔ہمارے بعض مناظرین کو چونکہ نصریٰ کے ساتھ کلام کرنی پڑتی