ہے اور جب وہ آنحضرت ﷺ کی کسر شان کرتے ہیں تو محل اور موقعہ کے لحظ سے اُن کو یسوع کی نسبت اسی قسم کے ثبوت دینے پڑتے ہیں۔اور وہ مقتضائے وقت ہوتا ہے مگر ہر ایک آدمی اس کا اہل نہیں ہے اور دوسرے لوگ اکثر کسی نبی کی شان میں بھی کوئی کلمہ گستاخی یا بے ادبی کا ستعمال کرتے ہیں، تو وہ گناہ کرتے ہیں۔یہ کبھی نہ گمان کرنا چاہیے کہ حضرت مسیحؑ یا دوسرے انبیاء ایک معمولی آدمی تھے۔یوہ اﷲ تعالیٰ کے برگزیدہ اور مقرب تھے۔قرآن شریف نے مصلحت اور موقعہ کے لحاظ سے آنحضرت ﷺ کی نسبت ایک لفظ اس قسم کا بیان فرمایا ہے کہ جہاں آپ کے بہت سے انوار و برکات اور فضائل بیان کیے ہیں وہاں…
بشر مثلکم (الکہف :۱۱۱)
بھی کہہ دیا ہے مگر اس کے یہ ہرگز معنی نہیں ہیں کہ آنحضرت ﷺ فیالواقعہ ہی عام آدمیوں جیسے تھے۔اﷲ تعالیٰ نے یہ لفظ آپ کی شان میں ساس لیے استعمال فرمایا کہ دوسرے انبیاء کی طرح آپ کی پرستش نہ ہو اور آپ کو خدا نہ بنا یا جاوے۔اس سے یہ مراد ہرگز نہیں ہے کہ آپؐ کے فضائل و مراتب ہی سلب کر دیئے جاویں۔؎ٰ
آخر کار تجویز ہوا کہ ایک صاحب ذی وجاہت و ذی اثر کے ہاتھ میں مہمانوں کی تواضع کا اہتمام دیا جاوے۔
۲۳؍اکتوبر ۱۹۰۴ء
(بوقت ظہر)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تصویری کارڈ
ظہر کے وقت مفتی محمد صادق صاحب نے حضرت اقدس ؑ کی خدمت میں ایک شخص کی تحریری درخواست بذریعہ کارڈ کے ان الفاظ میں پیش کی۔کہ یہ شخص حضور کی تصویر کو خط و کتابت کے کارڈوں پر چھاپنا چاہتے ہیں اور اجازت طلب کرتے ہیں۔
اس پر حضورؑ نے فرمایا کہ :
میں تو اسے ناپسند کرتا ہوں