۲۲؍اکتوبر ۱۹۰۴ء؁ ایک شخص بیمار کا ذکر ہوا۔آپ نے فرمایا کہ : انسان خال تندرستی میں صحب کی قدر نہیں کرتا (کہ ان ایام میں اپنے تعلقات اﷲ تعالیٰس ے مضبوط کرے تا کہ وہ ہر طرف اس کا حافظ و ناصر ہو ۲؎)اور جب بیمار ہوتا ہے تو ھپر دوبارہ صحت اس لیے طلب کرتا ہے کہ انہی دنیا کے امور میں مبتلا ہو (اگر اس کا ارادہ خدمت دین ہو تو اس کا صحت طلب کرنا گویا منشائے الٰہی کے مطابق ہوگا ۲؎) اسی بیمار کی نسبت ذکر ہوا کہ اس نے کئی سو روپیہ لوگوں سے لینا ہے،مگر صرف چند روپوں کے کاغذات ہیں باکی تمام زبانی لین دین ہے اور اس کی دو لڑگیاں ہیں۔بعض احباب نے تجویز کیا کہ جو کچھ رقوم لوگوں کے ذمہ ہیں اور وہ تحریر میں نہیں آئیں تو چاہیے کہ اب دو آدمی گواہ مقرر کر کے اس کی زندگی میں وہ رقمیں ان مقرو ضوں کی منوالی جاویں۔اور تحریر کردا لیا جاوے۔ حضور ؑ نے فرمایا کہ : اس کی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔یہ بڑے ثواب کی بات ہے۔ممکن ہے کہ اگر وہ مر جاوے تو بیچاری لڑکیوں کو ہی کچھ فائدہ پہنچ جاوے۔ اسلام میں مساوات اہل اسلام کی وحدت اور اخوّت پر ذکر ہوا کہ عیسائیوں نے بھی اس خوبی کو تسلیم کیا ہے کہ مسلمان لوگ جب مسجد میں داخل ہو جاویں تو اُن میں بادشاہ اور امیر و غریب کی کوئی تمیز نہیں رہتی اور کسی کو حق نہیں کہ کسی قسم کا امتیاز کرے؛ حالانکہ عیسائیوں کے گرجے اس سے محروم ہیں۔خاص انگریزوں کے گرجوں میں عام عیسائی لوگ داخل نہیں ہوسکتے۔پھر گرجوں میں درجہ بدرجہ چوکیان لگی ہوتی ہیں اور رومن کیتھولک تونشستگاہوں پر نام بھی لکھ دیتے ہیں۔