وہ آستانہ الوہیت پر اپنا سر رکھ دیتا ہے۔؎ٰ ۱۶؍مئی ۱۹۰۴ء؁ بمقام گورداسپور اعلیٰ حضرت حجتہ اﷲ مسیح موعود ؑ احاطہ کچہری میں رونق افروز تھے۔وقتاً فوقتاً جو کچھ آپ نے فرمایا۔ ہدیۂ ناظرین ہے۔(ایڈیٹر الحکم) دنیا کی مشکلات اور تلخیاں دنیا کی تلخیوں اور ناکامیوں پر فرمایا کہ : مثنوی میں لکھا ہے ؎ دشت دنیا جزدو و جز دام نیست جز بخلوت گاہ حق آرام نیست فرمایا: دنیاکے مشکلات اور تلخیاں بہت ہین۔یہ ایک دشت پر خار ہے۔اس میں سے گذرنا ہر شخص کا کام نہیں ہے۔گذرنا تو سب کو پڑتا ہے، لیکن راحت اور اطمینان کے ساتھ گذرجانا یہ ہر ایک شخص کو میسر نہیں آسکتا۔یہ صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو اپنی زندگی کو ایک فانی اور لاشئی سمجھ کر اﷲ تعالیٰ کی عظمت و جلال کے لیے اسے وقف کر دیتے ہیں اور اس سے سچا تعلق پیدا کر لیتے ہیں‘ ورنہ اسنان کے تعلقات ہی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی تلخی اس کو دیکھنی پڑتی ہے۔بیوی اور بچے ہوں تو کبھی کوئی بچہ مر جاتا ہے تو صدمہ برداشت کرتا ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ سے سچا تعالق ہو تو ایسی ایسے صدمات پر ایک خاص صبر عطا ہوتا ہے۔جس سے وہ گھبراہٹ اور سوزش پیدا نہیں ہوتی جو ان لوگوں کو ہوتی ہے جن کا خدا تعالیٰ سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔پس جو لوگ اﷲ تعالیٰ کے منشاء کو سمجھ کر اس کی رضا کے لئے اپنی زندگی وقف کرتے ہیں۔وہ بیشک آرام پاتے ہیں‘ ورنہ ناکامیاں اور نامرادیاںزندگی تلخ کر دیتی ہیں۔ ایک کتاب میں ایک عجیب بات لکھی ہے کہ ایک شخص سڑک پر روتا ہوا چلا جارہا تھا۔راستہ میں ایک ولی اﷲ اس سے ملے۔انہوں نے پوچھا کہ تو کیوں روتا ہے۔اس نے جواب دیا کہ میرا