اس کے بعد حضرت اقدس اور عیسائی صاحبوں میں ذیل کی گفتگو ہوئی جس میں اکثر روئے سخن
ڈاکٹر صاحب کی طرف ہی تھا۔
حضرت اقدس- ادھر آپ کا آنا کس تقریب پر ہوا؟
ڈاکٹر صاحب- صرف زیارت کی غرض سے کیونکہ ایک عرصہ سے شوق تھا۔
حضرت اقدس۔ مگر تاہم ایسی کونسی تقریب ہوئی کہ آپ ادھر آگئے؟
ڈاکٹر صاحب۔ مین نے رخصت لی تھی اور بال بچوں کو لے کر آیا تھا۔وہ لاہور میں ہیں اور خود ادھر
آیا ہوں۔بڑا باعث رخصت کا آپ کی ملاقات ہی تھی۔
حضرت اقدس۔ اب رخصت کے لکتنے دن باقی ہیں؟
مفتی صاحب۔ (حساب کر کے) ۱۷ دن باقی ہیں۔
حضرت اقدس ۔ تو اب آپ کو یہ ایام یہان ہمارے پاس ہی گذارنے چاہئیں۔
حکیم نور الدین صاحب۔ یہ تو آج ہی رخصت ہوتے تھے مگر رات کو میں نے رکھ لیا ہے۔
حضرت اقدس۔ جب رخصت ہمارے لیے لی تو پھر رخصت کے ایام ہمارے پاس گذارنے چاہئیں۔
عیسائی قاضی صاحب۔ اتنی فرصت نہیں۔زیارت مقصود تھی سو ہو گئی۔
حضرت اقدس۔ ڈاکٹر صاحب کو مخاطب کرکے۔اب پھر کیا صلاح ہے۔کتنے دن رہوگے؟
عیسائی قاضی صاحب نے پھر جلدی جانے کا ارادہ ظاہر کیا۔
حضرت اقدس۔ یہ مہمان داری کے ادب کے خلاف ہے اور آپ کے ارادے کے بھی برخلاف
ہے کہ اس قدر جلدی کی جاوے۔میرا ارادہ جمعرات کو سیالکوت جانے کا ہیتب تک
رہیں۔پھر اکٹھے چلیں گے۔؎ٰ
اس اثنا میں نماز کا وقت ہو یگا۔حضرت اقدس نے حکم فرمایا کہ ان کی خوابگاہ اور بساتر اور خوراک
وغیرہ کا اہتمام بہت عمدہ طور سے کر دیا جایوے کہ کوئی تکلیف نہ ہو اور ہرسہ صاحبان تشریف لے
گئے۔دوسرے دن احمدی عمارات اور کارخانوں کو دیکھ کر رخصت ہوگئے۔