آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا فارسی کا ایک الہام
ایک دفعہ آنحضرتﷺ سے ایک نے دریافت کیا کہ کیا اﷲ تعالیٰ نے کبھی فارسی زبان میں بھی کلام کی ہے۔تو آپؐ نے فرمایا۔ہاں۔ایک دفعہ یہ فقرہ الہام ہوا تھا ؎
ایں مُشتِ خاک راگر نہ بخشم چہ کنم
روس اور جاپان کی جنگ
اس جنگ کے ذکر پر حضرت حکیم نورالدین صاحب نے بیان کیا کہ اس قدر خو نخوار جنگ ہے کہ ہزاروں آدمی ہلاک ہورہے ہیں؛ حالانکہ دونوں سلطنتوں کا مذہب ایسا ہے جس کی رو سے اس جنگ کی مطلق نوبت ہی نہ آنی چاہیے۔جاپان کا بُدھ مذہب ہے اور اس کی رو سے ایک چیونٹی کا مارنا بھی گناہ ہے۔رُو س عیسائی ؎ٰ ہے اور اُن کو چاہیے کہ مسیح کی تعلیم کے بموجب اگر جاپان ایک مقام پر قبضہ کرے تو دوسرا مقام خود اس کے حوالہ کر دیں۔
چند عیسائیوں سے گفتگو
آج تین عیسائی حضرت مسیح موعودؑ کی زیارت کے لیے تشریف لائے۔ایک نو جوان تھے جو کہ ایک صاحب کے بچے تھے اور باقی میں سے ایک صاحب ڈاکٹر تے۔جو کہ ضعیف العمر تھے اور ایک قاضی صاحب پشاوری جوان مرد تھے۔ایک صاحب ان میں سے وہ تھے جنہوں نے تحقیقِ مذاہب کی بناء پر نیاز مند انہ طور پر حضرت اقدس سے کسی زمانہ میں خط و کتابت کی تھی جس کی وجہ سے انکو کمال شوق حضورؑ کی زیارت کا تھا۔خانقاہوں میں سے ایک مشہور خانقاہ ہے جہاں اکثر لوگ مشرکانہ عقائد کی بناء پر زیارت وغیرہ کے لیے جاتے ہیں۔وہاں کی نسبت ایک عیسائی صاحب نے ذکر کیا کہ جالندھر کے ضلع کے لوگوں کے لیے وہ یہ کیا کرتے ہیں کہ ایک سفید کبوتر کی ٹانگیں کمزور کر کے قبر پر بٹھا دیتے ہیں اور کہتے ہیںکہ صاحبِ مزار کی روح اس میں حلول کر آئی ہے اس پر حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا کہ :
یہ کبوتر پیچھا نہیں چھوڑتا