ملک میں اکثر مسائل زیروزبر ہو گئے ہیں۔کل تجارتوں میں ایک نہ ایک حصہ سود کا موجود ہے۔اسلئے اس وقت نئے اجتہاد کی ضرورت ہے۔۲؎
احباب کی ضروریات کا خیال
ظہر کی نماز سے پیشتر حضورؑ نے کچھ روپے جن کی تعداد غالباً آٹھ یا دس ہوگی ایک مخلص مہاجر کو یہ کہہ کر دیئے کہ چونکہ موسم سرما ہے آپ کو کپڑوں کی ضرورت ہوگی۔اس مہاجر کی طرھ سے کوئی سوال نہ تھا۔خود حضورؑ نے ان کی ضرورت کو محسوس کرکے یہ رقم عطا کی جس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ آپ کو مخلص خدام کی ضرورت کا کس قدر خیال ہے۔
گناہوں سے معصوم انبیاء ہیں۔لیکن دوسرے لوگ توبہ و استغفار کے ذریعہ سے اُن سے مشابہت پیدا کر لیتے ہیں۔؎ٰ
۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۴ء
اﷲ تعالیٰ کی رحمت وسیع ہے
ایک صاحب کے رشتہ دار کسی وجہ سے قید ہو گئے تھے۔ان کے ذکر پر حصرت حکیم نورالدین صاحبؓ نے عرض کی کہ میں نے اُن سے یہ کہا ہے کہ اُسے خود استغفار کی تاکید کی جاوے۔اس پر حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ :
بعض لوگ جو استغفار کے لائق ہیں وہ تو استغفار کرتے ہیں اور دوسروں کو محض خدا تعالیٰ کی رحمت سے بھی رہائی مل جایا کرتی ہے۔جن کی طبیعت میں کجی ہے ان کے لیے اس کی رحمت وسیع ہے۔