پس خدا تعالیٰ ہی کھولے تو کُھل سکتا ہے۔ (مگر یاد رہے کہ اس تقریر سے دائیوں کے علاج کی حرمت نہ سمجھی جائے)۲؎ ۱۹؍اکتوبر ۱۹۰۴ء؁ سیالکوٹ سے احمدی جماعت کی طرف سے دعوت کا پیغام آیا۔آپ نے فرمایا کہ : تین چار روز کے بعد جواب دوں گا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ حضورؑ استخارہ کے بعد روانگی کی تاریخ مقرر کریں گے۔؎ٰ ۲۰؍اکتوبر ۱۹۰۴ء؁ بوقت ظہر تجارتی روپیہ پر منافع ایک صاحب کی خاطر حضرت حکیم نورالدین صاحبؓ نے ایک مسئلہ حصرت اقدس ؑ سے دریافت کای کہ یہ ایک شخص ہیں جن کے پاس بیس بائیس ہزار کے قریب روپیہ موجود ہے۔ایک سکھ ہے وہ ان کا روپیہ تجرت میں استعمال کرنا چاہتا ہے اور ان کے اطمینان کے لیے اس نے تجویز کی ہے کہ یہ روپیہ بھی اپنے قبضہ میں رکھیں لیکن جس طرح وہ ہدایت کرے۔اسی طرح ہر یک شئے خرید کر جہاں کہے وہاں روانہ کریں اور جو روپیہ آوے وہ امانت رہے۔سال کے بعد وہ سکھ دو ہزار چھ سو روپیہ ان کو منافع کا دے دیا کرے گا۔یہ اس غرض سے یہاں فتویٰ دریافت کرنے آئے ہیں کہ یہ روپیہ جو اُن کو سال کے بعد ملے گا اگر سود نہ ہو تو شراکت کرلی جاوے۔ حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ : چونکہ اُنہوں نے خود بھی کام کرنا ہے اور ان کی محنت کو دخل ہے اور وقت بھی صرف کریں گے اسلئے ہر ایک شخص کی حیثیت کے لحاظ سے اس کے وقت اور محنت کی قیمت ادا ہوا کرتی ہے۔دس دس ہزار اور دس دس لاکھ روپیہ لوگ اپنی محنت اور وقت کا معاوضہ لیتے ہیں۔لہذا میرے نزدیک تو یہ روپیہ جو اُن کو وہ دیتا ہے سود نہیں ہے۔اور میں اس کے جواز کا فتویٰ دیتا ہوں۔سود کا لفظ تو اس روپیہ پر دلالت کرتا ہے جو مفت بلا محنت کے (صرف روپیہ کے معاوضہ میں) لیا جاتا ہے۔اب اس