۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۴ء؁ بمقام قادیان بعد نماز مغرب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے شہ نشین پر جلو ہ افروز ہو کر فرمایا کہ : میرے سر کی حالت آج بھی اچھی نہیں ،چکر آرہا ہے۔جب جماعت کا وقت آتا ہے ۔تو اس وقت خیال گذرتا ہے کہ سب جماعت ہوگی اور میں شامل نہ ہوں گا اور افسوس ہوتا ہے۔اس لیے افتاں خیزاں چلا آتا ہوں۔ چند اصحاب اپنی مستورات کے علاج ک لیے لاہور تشریف لے گئے ہوئے تھے اور انجام کار معلوم ہوا کہ مس ڈاکٹروں کے علاج سے کوئی فرق مرض میں معلوم نہیں ہوتا۔اس لیے حضورؑ نے فرمایا کہ : چونکہ یہ لوگ متدیّن نظر نہیں ئتے۔اس لیی خطرہ ہے کہ کوئی اور تکلیف نہ بڑھ جاوے۔انکو کہہ دو کہ چلے آویں۔شافی اﷲ تعالیٰ ہی ہے۔دائیوں کا دستور ہوتا ہے کہ محض روپیہ بٹورنے کی خاطر وہ مرض کو بڑھاتی جاتی ہیں۔قادیان کی آب و ہوا لاہور کی نسبت بہت عمدہ ہے۔اس سے اُن کو فائدہ ہوگا۔ہم اس لیے کہتے ہیں کہ جو بات دل میں آوے اُسے مخفی رکھا جاوے تو یہ ایک قسم کی خیانت ہے۔ بعض امراض کا علاج عورتوں کے بعض امراض اس قسم کے ہوتے ہیں کہ اُن کے علاج کے لیے کھلی ہوا کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے بعض رؤسامیں جو اشد درجہ کا پردہ رائج ہے،میں اس کے خلاف ہوں۔بعض عورتوں کو بعض وقت کھلی ہوا میں پھرانا چاہیے۔دیکھو حضرت عائشہ صدیقہؓ رفع حاجت کے لیے باہر جایا کرتی تھیں کیا پھر آجکل کے رؤساء کی عورتیں اُن سے بڑھ کر ہیں؟ حضرت حکیم نورالدین صاحب نے فرمایا کہ تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ مراق کے تین علاج ہیں۔ اول چلنا پھرنا۔دوسرے بیکار نہ رہنا۔کسی نہ کسی شغل میں مصروف رہنا۔تیسرے ہینگ اور افسنتین کا استعمال۔ حصولِ اولاد کے لیے اﷲ تعالیٰ کے فضل ہی کی ضرورت ہے وا رقرآن شریف اورتورات سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ اﷲ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔حضرت یوسف ؑ کی والدہ بہت ضعیف تھیں اور ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ان کی نسبت تورات میں لکھا ہے کہ خداوند نے کہ کہ میں نے اس کے رحم کو کھولا ؎ٰ۔