مرد باید کہ گیرد اندر گوش در نوشت است پند بر دیوار میری نصیحت پر عمل کرو۔جو شخص خود زہر کھا ثکا ہے وہ دوسرون کی زہر کا کیا علاج کرے گا۔اگر علاج کرتا ہے تو خود بھی مرے گا اور دوسروں کو بھی ہلاک کرے گا۔کیونکہ زہر اس میں ار کرچکا یہ اور ا سکے خواص چونکہ قائم نہیں رہے۔اس لیے اس کا علاج بجائے مفید ہوین کے مضر ہوگا۔غرض جس قدر تفرقہ بڑھتا جاتا ہے اس کا باعث وہی لوگ ہیں جنہوں نے زبانوں کو تیز کرنا ہی سیکھا ہے۔ دوسرے مذاہب کی حیثیت یہ بھی یاد رکھو کہ میرا یہ مذہب نہیں کہ اسلام کے سوا سب مذاہب بالکل جھوٹے ہیں۔میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ وہ خدا ج مخلوق کا خد اہے وہ سب پر نظر رکھتا ہے۔یہ نہیں ہوتا کہ وہ ایک ہی قوم کی پرواہ کرے اور دوسروں پر نظر نہ کرے۔ہاں یہ سچ ہے کہ حاکم کے دورے کی طرح کھی کسی قوم پر وہ وقت آجاتا ہے اور کبھی کسی پر۔میں کسی کے لیے نہیں کہتا۔خد اتعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظہار کیا ہے کہ راجہ رامچندر اور کرشن جی وغیرہ بھی خدا کے راستباز بندے تھے اور اس سے سچا تعلق رکھتے تھے۔میں اس شخص سے بیزار ہوں جو ان کی نندیا یا توہین کرتا ہے۔اس کی مثال کنوئیں کے مینڈک کی سی ہے جو سمندر کی وسعت سے ناواقف ہے۔جہانتک ان لوگوں کے صحیح سوانح معلوم ہوتے ہیں اس سے پایا جاتا ہے کہ ان لوگوں نے خدا تعالیٰ کی راہ میں مجاہدات کیے اور کوشش کی کہ اس راہ کو پائیں جو خدا تعالیٰ تک پہنچنے کی حقیقی راہ ہے۔پس جس شخص کا یہ مذہب ہو کہ وہ راستباز نہ تھے وہ قرآنُِ شریف یک خلاف کہتا ہے کیونکہ اس میں فرمایا ہے وان من امۃالا خلافیھا نذیر (فاطر : ۲۵) یعنی کوئی قوم اور اُمت ایسی نہیں گذری جس میں کوئی نذیر نہ آیا ہو۔میں بابا نانک صاحب کو بھی خدا پرست سمجھتا ہوں اور کبھی پسند نہیں کرتا کہ ان کو بُرا کہا جائے۔میں ان کو ان لوگوں میں سے سمجھتا ہوں جن کے دل میں خدا تعالیٰ اپنی محبت آپ بٹھا دیتا ہے۔پس ان لوگوں کی پیروی کرو۔اور دل کو روشن کرو۔پھر دوسروں کی اصلاح کے لیے زبان کھولو۔اس ملک کی شائستگی اور خوش قسمتی کا زمانہ تب آئے گا جب نری زبان نہ ہوگی۔بلکہ دل پر دار و مدار ہوگا۔پس اپنے تعلقات خدا تعالیٰ سے زیادہ کرو۔یہی تعلیم سب نبیوں نے دی ہے اور یہی میری نصیحت ہے۔اگر درخانہ کس است حرفے بس است۔؎ٰ