سکتا ہے۔پس اس کو پڑھ کر توجہ کریں اور مذہبی مخالفت کو عام مخالفت کا ذریعہ نہ بنادیں۔مذہب تو اس لیے ہوت اہے کہ اخلاق وسیع ہوں جیسے خدا تعالیٰ کے اخلاق وسیع ہیں۔کوئی ہزاروں گالیاں اُسے دے وہ اس پر پتھر نہیں برسا دیتا ۔پس اسی طرح حقیقی مذہب والا تنگ ظرف نہیں ہوسکتا۔تنگ ظرف خواہند دیا مسلمان ی عیسائی وہ دوسرے بزرگوں کو بھی بدنام کرتا ہے۔میں اس سے منع نہیں کرتاکہ اختلافِ مذہب بیان نہ کرو۔بیشک نیک نیتی سے اختلاف بیان کرو۔مگر اس میں تعصب اور کینہ کا رنگ نہ ہو۔ہندوئوں اور مسلمانوں کے تعلقات دوچار سال سے نہیں بلکہ صدہا سال سے چلے آتے ہیں۔اس لیی خد اکرے کہ بہت سے دلوں میں جوش ڈال دے کہ جوان تعلقات کو دور نہ ہونے دیں۔
یہ بھی یاد رکھو کہ مذہب صرف قیل و قال کا نام نہیں بلکہ جبتک عملی حالت نہ ہو کچھ نہیں۔خدا س کو پسند نہیں کرتا۔جس قدر بزرگ اسلام میں یا ہندوجوں میں اوتار وغیرہ گذرے ہیں ان کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُنہوں نے اپنے عمل سے اُن سچائیوں کو جن کا وہ وعظ کرتے تھے ثابت کر دکھیا ہے۔قرآنِ شریف میں بھی یہی تعلیم ہے۔
یا یھا الذین امنو ا علیکم انفسکم (المائدۃ : ۱۰۶)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے اپنے آپ کو درست کرو۔جس شخص کے اندر خود روشنی اور نور نہیں ہے وہ اگر زبان سے کام لے گا تو وہ مذہب کو بچوں کا کھیل بنادے گا اور حقیقت میں ایسے ہی مصلحوں سے ملک کو نقصان پہنچاہے۔ان کی زبان پر تو منطق اور فلسفہ جاری رہتاہے مگر اندر خالی ہوتا ہے۔
مصلح کی صفات
خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں نہایت خیر خواہی سے کہہ رہا ہوں خواہ کوئی میری باتوں کو نیک ظنی سے سنے یا بد ظنی سے ،مگر مین کہوں گا کہ جو شخص مصلح بننا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہپہلے خود روشن ہو اور اپنی اصلاح کرے۔دیکھو یہ سورج جو روشن ہے ہلے اس نے خود روشنی حاصل کی ہے۔میں یقینا سمجھتا ہوں کہ ہر ایک قوم کے معلم نے یہی تعلیم دی ہے،لیکن اب دوسرے پر لاٹھی مارنا آسان ہے،لیکن اپنی قربانی دینا مشکل ہوگیا ہے۔پس جو چاہتا ہے کہ قوم کی صلاح کرے اور خیر خواہی کرے۔وہ اسکو پانی اصلاح سے شروع کرے۔قریم زمانہ کے رشی اور اوتار جنگلوں اور بنوں میں ج کر اپنی اصلاح کیوں کرتے تھے وہ آجکل کے لیکچراروں کی طرح زبان نہ کھولتے تھے جبتک خود عمل نہ کر لیتے تھے۔یہی خد اتعالیٰ کے قُرب اور محبت کی راہ ہے۔جو شخص دل میں کچھ نہیں رکھتا اس کا بیان کرنا پر نالہ کے پانی کی طرح ہے،جو جھگڑے پیدا کرتا ہے اور جو نورِ معرفت اور عمل سے بھر کر بولت اہے وہ بارش کی طرخ ہے جو رحمت سمجھی جاتی ہے۔اس وقت میری نصیحت یاد رکھیں۔آج کے بعد آپ مجھے یہاں نہ دیکھیں گے اور میں نہیں جانت اکہ پھر موقعہ ہو یا نہ ہو،لیکن ان تفرقوں کو مٹانے کی کوشش کرو۔میری نسبت خواہ آپ کا کچھ ہی خیال ہو لیکن یہ سمجھ کر کہ ؎