کے فضل پر موقوف یہ کہ انسان اپنے اندر علمی یا عملی تبدیلی کر سکے،لیکن جو اخلاق آپ نے دکھائے ہیں ہ نہایت ہی قبل تعریف ہیں اور میں دعا کرتا ہوں کہ جیسے اﷲ تعالیٰ نے عام طور پر یہ اجتماعی رنگ دکھایا ہے وہ ایسا وقت اور زمانہ بھی لاوے کہ د لوں میں بھی اتحاد اور اجتماع ہو اس ملک کو تفرقہ نے بہت نقصان پہنچایا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ اس ملک کے ہندوئوں اور مسلمانوں میں بہت بڑا اتحاد اور اتفاق تھا اور باوجود اختلافِ مذاہب بھی ان میں قابل قدر میل ملاپ تھا مگر اس زمانہ میں فرق آگیا اور خدا کرے کہ یہ دور ہو جائے۔ یاد رکھو کہ یہ تنگ دلی اور تنگ ظرفی کا نشان ہے کہ انسان اختلافِ شریعت و مذہب کی وجہ سے اخلاق کو بھی چھوڑدے۔اختلافِ رائے اور چیز ہے اور اخلاق اور۔یہ انسانی اخلاق کی خوبی اور کمل ہے کہ اباوجود اختلافِ رائے کے اخلاقی کمزوری نہ دکھائے۔آج کے جلسہ نے مجھے ایک تازہ امید دلائی ہے کہ اگر اﷲ تعالیٰ اپنا فضل کرے تو یہ میل جول ترقی کریگا۔میں خوب جانت اہوں کہ جبتک طبیعت میں یہ استعداد نہیں ہوتی کہ کوئی شخص صبر اور خوش خلقی سے ایک مخالف رائے کو سُن سکے وہایسی رائے کو سُن کر چپ نہیں رہ سکتا۔اسی لیے یہ خاموشی اور صبر مجھے امید دلاتا ہے کہ اچھے نتیجے پیدا ہوں گے۔یہ بھی خوبی کی بات ہے کہ جب مخالف رائے کو سنے تو فوراً جواب دینے کو تیار نہ ہو جائے کیونکہ یہ تو محض ہارجیت کی خواہش ہوگی،لیکن اس رائے کے صحیح نتیجہ پر پہنچنے کے لیی اس پر صبر سے فکر کرنا چاہیے۔اس سے علمِ و حکمت پیدا ہوتی ہے اور علم و حکمت ایسا خزانہ ہیجو تمام دولتوں سے اشرف ہے۔دنیا کی تمام دولوتوں کو فنا ہے،لیکن علم و حکمت کو فنا نہیں ہے۔پس جو جلدی نہیں کرتا بلکہ فکر کرتا اور اﷲ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اے اﷲ اگر میں غلطی پر ہوں تو مجھے بصیرت اور معرفت عطا کر۔وہ اس حکمت کے خزانہ کو محفوظ رکھتا ہے۔پس میں چاہتا ہوں کہ آپ صاحبان اس خزانہ کے حاصل کرنے اور محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔ میں آپ صاحبوں کی خدمت میں ادب ،عجز اور تواضع سے عرض کرتا ہوں کہ یہ جو کچھ سنایا گیا ہے آپ اس پر توجہ کریں تاکہ میری محنت ضائع نہ ہو۔جو کچھ میری قلم سے نکلا ہے اور میرے دوست مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھا ہے میں اﷲ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتاہوں کہ کسی کی دل آزاری یا استخفافِ مذہب کی نیت سے نہیں لکھا بلکہ خدا گواہ ہے اور اس سے بہتر کون گواہ ہو سکتاہے کہ میں نے سچے دل سے لکھاہے اور بنی نوعِ انسان کی ہمدردی کے لیے لکھ ہے اور میں جانتا ہوں کہ ؎ سخن کز دل بروں آید نشیند لا جرم بر دل چونکہ فرصت بہت کم ہے۔ممکن ہے کہ بعض نے نہ سنا ہو اس لیے ہم نے چھپا دیا ہے اور بشرط گنجائش مل