پر اٹھائے گئے ہیں۔تب میں بھی سمجھ لیتا کہ یہ مسیحؑ کی خصوصیت نہیں ٹھہراتے مگر موجودہ حالت میں میرا دل گوارا نہیں کر سکتا کہ میں قرآنِ شریف کے ایسے معنے کروں جو خود قرآنِ شریف اور لُغت اور آنحضرت ﷺ کی تفسیر کے خلاف ہوں اور آنحضرت ﷺ کی ہتک شان کا باعث ہوں۔
میں سچ کہت اہوں کہ جس شخص نے یہ لکھ اہے کہ جو شخص یہ کہے کہ آنحضرت ﷺ زندہ نہیں وہ کافر ہے وہ سچ کہتا ہے۔
اس خصوصیت کے پید اکرنے کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ تیس لاکھ مرتد ہو گیا۔خد اکے واسطے اس قدر ظلم نہ کرو کہ آنحضرت ﷺ کی شان اور رتبہ کو گھٹایا جاوے۔جو اس عقیدہ سے برا بر گھٹتی ہے کہ وہ تو زمین میں دفن کئے گئے اور مسیح ؑآسمان پر اٹھایا گیا۔مسیح ؑہرگز زندہ نہیں رہا۔وہ مرگیا۔جیس اکہ خد اتعالیٰ نے فیصلہ کر دیا کہ
یا عیسیٰ انی متوفیک (آل عمران : ۵۶)
اور خود مسیح ؑنے اقرار کر لیا
فلما توفیتنی (المائدہ : ۱۱۸)
میں پھر کہتا ہوں کہ عیسائیوں کو اعتراض کا موقعہ نہ دو۔میری باتوں کو سنو اور غور سے سنو اور پھر اپنی جگہ پر جا کر سوچو۔؎ٰ
۳؍ستمبر ۱۹۰۴ء
بمقام لاہور
مذہبی رواداری کی تعریف
حضرت اقدسؑ کی تیسری تقریر جو حضور نے بارہ ہزار سے زائد آدمیوں کے مجمع میں حاضرین کی بیحد خواہش سے کی:
میں آپ سب صاحبوں کا شکر کرتا ہوں کہ آپ نے نہایت صبر اور خاموشی کے ساتھ میرے لیکچر کو سنا۔میں ایک مسافر آدمی ہوں اور کل صبح انشاء اﷲ چلا جائوں گا۔لیکن میں اس شکر اور خوسی کو ساتھ لے جائوں گا۔اور یاد رکھوں گا کہ باوجود اختلاف رائے کے (کہ جس کی وجہ سے عموماً جوش پید اہو جاتاہے) آپ نے نیکی اور نیک اخلاقی اور آہستگی سے میرے مضمون کو سنا۔میں یہ جانتا ہوں اور خود محسوس کرتا ہوں کہ مدت کے خیالات کو چھوڑنا سہل اور آسان نہیں ہوتا خواہ وہ کتنے ہی غلط کیوں نہ ہوں۔
یہ محض اﷲ تعالیٰ