نے مجھے مامور کر کے بھیجا ہے اور میں وہی ہوں جس کو آنحضرت ﷺ نے حکم قرار دیا ہے تو پھر میرے فیصلہ پر چون و چراکرنا ان کا حق نہیں تھا۔طریق تقویٰ تو یہ تھا کہ میری باتوں کو سنتے اور غور کرتے اناکر کے لیے جلدی نہ کرتے۔میں سچ سچ کہتاہوں کہ میرے آنے کے بعد اُن کا حق نہیں ہے کہ یہ زبان کھولیں، کیونکہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور حکم ہو کر آیا ہوں۔؎ٰ
ابھی بہت زمانہ نہیں گذرا کہ مُقَلِّد غیر مقلدوں کی گلطیان نکالتے اور وہ ان کی غلطیان ظاہر کرتے اور اس طرح پر دوسرے فرقے آپس میں درندوں کی طرح لڑتے جھگڑتے تھے۔ایک دوسرے کو کافر کہتے اور نجس بتاتے تھے۔اگر کوئی تسلی کی راہ موجود تھی،تو پھر اس قدر اختلاف اور تفرقہ ایک ہی قوم میں کیوں تھا؟ غلطیاں واقع ہو چکی تھیں اور لوگ حقیقت کی راہ سے دور جا پڑے تھے۔ایسے اختلاف کے وقت ضرور تھا کہ خد اتعالیٰ خدو فیصلا کرتا؛ چنانچہ اس نے ایسا ہی کیا اور ایک حکم ان میں بھیج دیا۔اب بتائو کہ میں نے کای زیادتی کی ہے یا کیا قرآن شریف سے کم کر دیا ہے جو میری مخالفت کے لیے اس قدر جوش پیدا ہوا ہے؟
یہ سچ ہے کہ اس وحی کی بناء پر جو خد اتعالیٰ کی کامل اور مجید کتاب کی شرح میں ہے میں نین کاہ کہ مسیح ؑ مر گیا ہے،لیکن اس کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے؟ کیوں یہ قرآن شریف کو غور سے نہیں پڑھتے۔کیا اُن کو شرم نہیںآتی ہے کہ یہ مسلمان کہلاتے ہیںموحد کہلاتے ہیں۔آنحضرت ﷺ کو افضل الانبیء اور خیر البشر تسلیم کرتے ہیں۔لیکن جب وہی لفظ توفی کا آپؐ پر آتا ہے تو اس کے معنی موت کرتے ہیں اور جب مسیح پر آتا ہے تو زندہ مع جسم آسمان پر اٹھائے جاتے ہیں۔ اُن کی غیرت کو کای ہوا؟ یہ آنحضرت ﷺ کی ایسی ہتک کیوں روا رکھتے ہیں؟ کیا قرآن شریف میں
تعد ھم اونتو فینک (یونس : ۴۷)
رسول اﷲ ﷺ کے لیے نہیں آیا؟ اور وہی لفظ مسیح کے لیے متوفیک اور فلما توفیتنی میں آیا ہے۔پھر یہ کیا ہو گیا کہ ایک جگ کچھ اور معنی اور ایک جگہ کچھ اور۔آنحضرت ﷺ کو ایسا ہی کمزور نبی سمجھا ہے جو انہیں زمین میں دفن کرتے ہیں اور مسیح ؓ کو آسمان پر چڑھاتے ہیں۔اگر آنحضرت کی محبت ہوتی اور آپؐ کے جلال اور شوکت کے لیے غیرت ہے تو کیوں نہیں کہہ د یتے کہ وہ بھی زندہ آسمان