میں باہر نکلی تو قبرستان میں دیکھا کہ آپ سفید چادر کی طرح پر زمین پر پڑے ہوئے ہیں اور سجدہ میں گرے ہوئے کہہ رہے ہیں
سجدت لک روحی و جنافی
اب بتائو کہ یہ مقام اور مرتبہ ۳۳ مرتبہ کی دانہ شماری سے پیدا ہو جاتی ہے۔ ہرگز نہیں۔
جب انسان میں اﷲتعالیٰ کی محبت جوش زن ہوتی ہے تو اس کا دل سمندر کی طرح موجیں مارتا ہے۔ وہ ذکرِ الہیٰ کرنے میں بے انتہا جوش اپنے اندر پاتا ہے اور پھر گن کر ذکر کرنا تو کفر سمجھتا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ عارف کے دل میں جو بات ہوتی ہے اور جو تعلق اپنے محبوب و مولا سے اسے ہوتا ہے وہ کبھی روارکھ سکتا ہی نہیں کہ تسبیح لے کر دانہ شماری کرے۔ کسی نے کہا ہے۔من کا منہکاصاف کر۔
انسان کو چاہیے کہ اپنے دل کو صاف کرے اور خداتعالیٰ سے سچا تعلق پیدا کرے۔ تب وہ کیفیت پیدا ہوگی اور ان دانہ شماریوں کو ہیچ سمجھے گا۔
تعداد رکعات
پوچھا گیا کہ نمازوں میں تعداد رکعات کیوں رکھی ہے؟ فرمایا :
اس میں اﷲ تعالیٰ نے اور اسرار رکھے ہیں۔جو شخص نماز پڑھے گا۔وہ کسی نہ کسی حد پر تو آخر رہے گا ہی۔اور اسی طرح پر ذکر میں بھی ایک حد تو ہوتی ہے۔لیکن وہ حد وہی کیفیت اور ذوق و شوق ہوتا ہے۔جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔جب وہ پیدا ہو جاتا ہے تو وہ بس کر جاتا ہے۔
دوسرے یہ بات حال والی ہے قال والی نہیں۔جو شخص اس میں پڑتا ہے وہی سمجھ سکتا ہے۔اصل غرض ذکر الٰہی سے یہ ہے کہ انسان اﷲ تعالیٰ کو فراموش نہ کرے اور اسے اپنے سامنے دیکھتا رہے۔اس طریق پر وہ گناہوں سے بچا رہے گا۔تذکرۃ اواولیاء میں لکھا ہے کہ ایک تاجر نے ستر ہزار کا سودا لیا اور ستر ہزار کا دیا مگر وہ ایک آن میں بھی خدا سے جدا نہیں ہوا۔پس یاد رکھو کہ کامل بندے اﷲ تعالیٰ کے وہی ہوتے ہیں جن کی نسبت فرمایا ہے۔
لا تلھیہم تجارۃ والا بیع عن ذکر اﷲ (النور : ۳۸)
جب دل خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور عشق پیدا کر لیتا ہے تو وہ اس سے الگ ہوتا ہی نہیں۔اس کی ایک کیفیت اس طریق پر سمجھ میں آسکتی ہے کہ جیسے کسی کا بچہ بیمار ہو تو خواہ وہ کہیں جاوے‘ کسی کام میں مصروف ہو مگر اس کا دل اور دھیان اسی بچہ میں رہے گا۔اسی طرح پر جو لوگ خدا تعالیٰ کے ساتھ سچا تعلق اور محبت پیدا کرتے ہیں۔وہ کسی حال میں بھی خدا تعالیٰ کو فراموش نہیں کرتے۔یہی وجہ ہے کہ صوھی کہتے ہیں کہ عام لوگوں کے رونے میں اتنا ثواب نہیں جتنا عارف کے ہنسنے میں ہے۔وہ بھی تسبیحات ہی ہوتی ہیں، کیونکہ وہ اﷲ تعالیٰ کے عشق اور محبت میں رنگین ہوتا ہے۔یہی مفہوم اور غرض اسلام کی ہے کہ