خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو بیشک میں اُن کی گلایوں سے ڈرجاتا،لیکن میں یقینا جانتا ہوں کہ مجھے خدا نے مامور کای ہے۔پھر میں ایسی خفیف باتوں کی کیا پروا کروں۔یہ کبیھ نہیں ہو سکتا۔تم خود غور کرو کہ اُن کی گالیوں نے کس کو نقصان پہنچایا ہے اُن کو یا مجھے؟ ان کی جماعت گھٹی ہے اور میری بڑھی ہے۔اگر یہ گالیاں کوئی روک پیدا کر سکتی ہیں تو دو لاکھ سے زیادہ جماعت کس طرح پید ا ہو گئی۔یہ لوگ ان میں سے ہی آئے ہیں یا کہیں اور سے؟ انہوں نے مجھ پر کفر کے فتوے لگائے لیکن اس فتویٰ کفر کی کیا تاثیر ہوئے؟ جماعت بڑھی۔اگر یہ سلسلہ منصوبہ بازی سے چلایا گیا ہوتا تو ضرور تھا کہ اس فتویٰ کا اثر ہوتا اور میری راہ میں وہ فتویٰ کفر بڑی بھاری روک پید اکر دیتا۔لیکن جو بات خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو انسان کا مقدور نہیں ہے کہ اُسے پامال کر سکے جو کچھ منصوبے میرے مخالف کئے جاتے ہیں۔پہچان کرنے والوں کو حسرت ہی ہوتی ہے۔میں کھول کر کہتا ہوں کہ یہ لوگ جو میری مخالفت کرتے ہیں ایک عظیم الشان دریا کے سامنے جو اپنے پورے زور سے آرہا ہے اپنا ہاتھ کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ اس سے رُک جاوے، مگر اس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ وہ رُک نہیں سکتا۔یہ اُن گالیوں سے روکنا چاہتے ہیں مگر یاد رکھیں کہ کبھی نہیں رُکے گا۔کیا شریف آدمیوں کاکام ہے کہ گالیاں دے۔میں ان مسلمانوں پر افسوس کرتا ہوں کہ یہ کس قسم کے مسلمان ہیں جو ایسی بیباکی سے زبان کھولتے ہیں۔میں اﷲ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہت اہوں کہ ایسی گندی گالیاں میں نے تو کبھی کسی چوڑھے چمار سے بھی نہیں سنی جو ان مسلمان کہلانے والوں سے سنی ہیں۔ ان گالیوں میں یہ لوگ اپنی خالت کا اظہار کرتے ہی اور اعتراض کرتے ہیں کہ وہ فاسق و فاجر ہیں۔خدا تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور ان پر رحم کرے۔ (آمین) ایسے گالیان دینے والے خواہ ایک کروڑ ہوں۔خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔یہ جانتے ہیں کہایک پیسہ کا کارڈ ہی ضائع ہو گا مگر نہیں جانتے کہ اس پیسہ کے نقصان سے ساتھ نامۂ عمال بھی سیاہ ہو جائے گا۔پھر میری سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ گالیان دی کیوں جاتی ہیں۔کیا صرف اس لیے کہ میں کہت اہوں کہ قرآنِ شریف کو نہ چھوڑو اور آنحضرت ﷺ کی تکزیب نہ کرو۔غرضب کی بات ہے کہ قرآنِ شریف میں لکھ اہو کہ حصرت عیسیٰ ؑ فوت ہو گئے اور پھر زمین پر نہیں آئیں گے مگر یہ ماننے میں نہیں آتے اور اس عقیدۂ مخالفتِ قرآن پر اڑتے ہیں۔اگر میں نہ آیا ہوت اور خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم نہ کیا ہوتا،تو یہ جو کچھ چاہتے کہتے کیونکہ اُن کو بیدار کرنے والا اور آگاہ کرنے والا ان میں موجود نہ تھا۔لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ