جو تمہیں قبول حق کی وجہ سے چھوڑتا ہے وہ سچا دوست نہیں ہے؛ ورنہ چاہیے تھا کہ تمہارے ساتھ ہوتا۔تمہیں چاہیے کہ وہ لوگ جو محض اس وجہ سے تمہیں چھوڑتے اور تم سے الگ ہوتے ہٰں کہ تم نے خدا تعالیٰ کے قائم کر دہ سلسلہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے اُن سے دنگہ یا فساد مت کرو بلکہ اُن کے لیے غائبانہ دعا کرو کہ اﷲ تعالیٰ ان کو بھی وہ بصیرت اور معرفت عطا رکے جو ا۲س نے اپنے فضل سے تمہیں دی یہ۔تم اپنے پاک نمونہ اور عمدہ چال چلن سے ثابت کر کے دکھائو کہ تم نے اچھی راہ اختیار کی ہے۔دیکھو میں اس امر کے لیے مامور ہوں کہ تمہیں بار بار ہدایت کروں کہ ہر قسم کے فساد اور ہنگامہ کی جگہوں سے بچتے رہو اور گالیں سُن کر بھی صبر کرو۔بدی کا جاوب نیکی سے دو اور کوئی فساد کرنے پر آمادہ ہو تو بہتر ہے کہ تم ایسی جگہ سے کھسک جائے اور نرمی سے جواب دو۔بار ہا ایسا ہوت اہے کہ ایک شخص بڑے جوش سے مخالفت کرتا ہے اور مخالفت میں وہ طریق اختیار کرتا ہے جو مفسد انہ طریق ہو۔جس سے سننے والوں میں اشتعال کی تحریک ہو لیکن جب سامنے سے نرمی جواب ملتاہے اور گالیوںکا مقابلہ نہیں کیا جاتا،تو خود اُسے شرم آجاتی ہے اور وہ اپنی حرکت پر نادم اور پشیمان ہوین لگتا ہے۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ صبر کو ہاتھ سے نہ دو۔صبر کا ہتھیار ایسا ہے کہ توپوش سے وہ کام نہیں نکلتاجو صبر سے نکلتاہے۔پبر ہی ہے جو دلوں کو فتح کرلیتا ہے۔یقینا یاد رکھو کہ مجھے بہت ہیرنج ہوتا ہے جب میں یہ سنتا ہوں کہ فلاں شخص اس جماعت کا ہو کر کسی سے لڑا ہے۔اس طریق کو میں ہرگز پسند نہیں کرتا اور خدا تعالیٰ بھی نہیں چاہت کہ وہ جماعت جو دنیا میںایک نمونہ ٹھہرے گی وہ ایسی راہ اختیار کرے جو تقویٰ کیر اہ نہیں ہے بلکہ میں تمہیں یہ بھی بتادیتا ہوں کہ اﷲ تعالیٰ یہانتک اس امر کی تائید کرتاہے کہ اگر کوئی شخص اس جماعت میں ہو کر صبر اور برداشت سے کام نہیں لیتا تو وہ یاد رکھے کہ وہ اس جماعت میں داخل نہیں ہے۔نہایت کار اشتعال اور جوش کی یہ وجہ ہو سکتی ہے کہ مجھے گندی گالیاں دی جاتی ہیں تو اس معاملہ کو خد اکے سپرد کردو۔تم اس کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔میرا معاملہ خد اپر چھوڑدو۔تم ان گالیوں کو سن کر بھی صبر اور برداشت سے کام لو۔تمہیں کیا معلوم ہے کہ میں ان لوگوں سے کس قدر گالیاں سنتا ہو ں۔اکثر ایسا ہوتاہے کہ گندی گالیوں سے بھرے ہوئے خطوط آتے ہیں اور کھلے کارڈوں میں گالیاں دی جاتی ہیں۔ بیرنگ خطوط آتے ہیں جن کا محصول بھی دینا پڑتا ہے اور پھر جب پڑھتے ہیں تو گالیوں کو طور مار ہوت اہے۔ایسی فحش گالیاں ہوتی ہیں کہ میں یقینا جانتا ہوں کہ کسی پیغمبر کو بھی ایسی گالیاں نہیں دی گئی ہیں۔ اور میں عتبار نہیں کرتاکہ ابو جہل میں بھی ایسی گلایوں کا مادہ ہو۔لیکن یہ سب کچھ سننا پڑتا ہے۔جب میں صبر کت اہوں تو تمہارا فرض ہے کہ تم بھی صبر کرو۔درخت سے بڑھ کر توشاخ نہیں ہوتی۔تم دیکھو کہ یہ کب تک گالیاں دیں گے۔آخر یہی تھک کر رہ جائیں گے۔اُن کی گالیاں،اُن کی شرارتیں اور منصوبے مجھے ہرگز نہیں تھکا سکتے۔اگر میں