پوچھو اور انجیل میں اس فیصلہ کو پڑھو جو مسیح نے خود کیا ہے۔مومن تو دوسرے کی مصیبت سے عبرت پکڑتا ہے لیکن ان مسلمانوں نے اس سے کای سبق سیکھا؟ یہودی عقیدہ ہے جس کی وجہ سے یہودی داخل جہنم ہوئے۔اب کای یہ بھی یہی چاہتے ہیں؟ میں حیران ہوتا ہون کہ ان کی عقلوں کو کیا ہوگیا۔اگر حضرت مسیح کا وہ فیصلہ جو انہوں نے الیاس کے دوبارہ آنے کے متعلق کیا ہے صحیح نہیں ہے تو ھپر مجھے جواب دیں کہ حضرت مسیح سچے پیغمبر کیونکر ہو سکتے ہیں؟ کیونکہ اس میں تو کوئی کلام اور شبہ ہی نہیں کہ اُن کے آنے سے پیشتر ایلیا کا آنا ضروری تھا اور ایلیا آسمان سے نہیں آیا۔پھر حضرت مسیحؑ کیونکر سچے نبی ٹھہریں گے۔
اس عقیدۂ فاسدہ سے یہی نہیں کہ یہودیوں کیط رف حصرت عیسیٰ ؑکی رسالت سے انکار کرنا پڑے گا بلکہ آنحصرت ﷺ کی رسالت بھی معاذ اﷲ ہاتھ سے جائے گی۔کیونکہ آپ ﷺ کی آمد اور بعثت حصرت مسیح ؑ کے بعد یہ اور جب ابھی تک مسیح ؑ بھی نہیں آیا تو پھر اسلام کیونکر صحیح ہوگا؟ سثو اور غور کرو کہ تمہری ذراسی ٹھوکر کا اثر کہان تک پہنچتا ہے۔سنو۔اصل حقیقت یہی ہے اور سچا فیصلہ وہی ہے جو حضرت مسیح ؑ نے کر دیا تھا۔اس سے منہ پھیرنا اچھا نہیں ہے۔
فسئلو ااھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (الانبیاء : ۸)
غرض انبیاء علیہم السلام کو اپنی تبلیغ کی رہ میں بہت سی مشکلات ہتی ہیں اور اُن کے مصائب میں سے یہ بھی بڑی مصیبت ہے کہ جس قدر دیر نبی کی کامیابی میں ہوگی۔اسی قدر ہم و غم اس کا پڑے گا۔میں ان مشکلات سے الگ نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس سلسلہ کو بھی منہاجِ نبوت پر قائم کیا ہے۔
جماعت میں شامل ہونے والوں کے لیے نصائح
ہماری جماعت کے لیے بھی اسی قسم کی مشکلات ہیں جسیے آنحضرت ﷺ کے وقت مسلمانوں کو پیش آئے تھے؛ چنانچہ نئی اور سب سے پہلی مصیبت تو یہی ہے کہ جب کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہوتا ہے تو ماعً دوست، رشتہ دار اور برادری الگ ہو جاتی ہے۔یہاں تک کہ بعض اوقات ماں باپ اور بھائی بہن بھی دشمن ہو جاتے ہیں۔السلام علیکم تک کے رو ادار نہیں رہتے اور جنازہ پڑھنانہیں چاہتے۔اس قسم کی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ بعض کمزور طبیعت کے آدمی بھی ہوتے ہیں اور ایسی مشکلات پر وہ گھبرا جاتے ہیں۔لیکن یاد رکھو کہ اس قسم کی مشکلات کا آنا ضروری ہے۔تم انبیاء و رسل سے زیادہ نہیں ہو۔ان پر اس قسم کی مشکلات اور مصائب آئیں اور یہ اسی لیے آتی ہیں کہ خد تعالیٰ پر ایمان قوی ہواور پایک تبدیلی کا موقعہ ملے۔دعائوں میں لگے رہو۔پس یہ ضروری ہے کہ تم انبیاء و رسل کی پیروی کرواور صبر کے طریق کو اختیار کرو۔تماہرا کچھ بی نقصان نہیں ہوتا۔وہ دوست