وہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہی سمجھتے رہے۔
ایسا ہی حضرت عیسیٰ ؑکے وقت بھی یہودیوں کو تھوکر لگی تھی۔ملاکی نبی کی کتاب میں حضرت مسیح کے آنے سے پہلے ایلیا کے آنے کی پیشگوئی درج ہے۔جب حضرت مسیح آگئے اور اُنہوں نے دعویٰ کیا تو یہودی مخالفت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے کہ پہلے الیاس کا آنا ضروری ہے۔اس لیے وہ انکار کرنے لگے؛ چنانچہ انہوں ین خود حضرت مسیح سے یہی سوال کیا کہ الیاس کا آنا جو مسیح سے پہلے ضروری ہے وہ کہاں ہے؟حضرت مسیح نے کہا کہ آنیوالا الیاس آگیا ہے۔یعنی وہ یوحنا ابنِ زکریا کے رنگ میں آیا ہے چاہو تو قبول کرو۔مگر یہ بات ان کی تسلی کا موجب کیونک ہو سکتی تھی۔وہ اس بات پر اڑے رہے کہ وہاں کسی مثیل کے آنے کی خبر تو دی نہیں گئی۔وہان تو خود ایلیا کے آنے کا وعدہ ہے۔اس بنا پر وہ انکار کرتیرہے اور دُکھ اور تکلیفیں بھی پہنچاتے رہے۔یہاںتک کہ اب بھی یہودی یہی یقین رکھتے ہیں۔میرے پاس ایک فاضل یہودی کی کتاب ہے۔اُس نے اس مسئلہ پر ایک لمبی بحث کی ہے اور کاہ یہ کہ ہم اس مسٰخ کو کیونکر قبول کر سکتے ہیں جب کہ اس سے پہلے ایلیا نہیں آیا۔یہ شخص جو یسوع مسیح ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اس کا دعویٰ بناوٹی اور جھوٹا ہے کیونکہ وہ ایلی اکے دوبارہ آنے کی جھوٹی تاویل کرتا ہے۔ہم اس کے خالہ زاد بھائی یحییٰ کو کیونکر ایلیاء سمجھ لیں پھر وہ لوگوں کے سامنے اپیل کرتا ہے کہ ہم کس طرح پر اس شخص کے دعویٰ کو تسلیم کر لیں جبکہ ہمیں یہ خبر دی گئی تھی کہ پہلے ایلیا آئے گا۔اس میں کسی مثیل کا وعدہ نہیں کیا گیا۔آخر میں کہتا ہے کہ اگر خد اتعالیٰ قیامت کو ہم سے سواک کرے گا کہ کیوں اس مسیح کو قبول نہیں کیا، تو ہم ملاکی نبی کی کتاب کھول کر اس کے سمانے رکھ دیں گے۔
اس قسم کے مشکلات ان لوگوں کو کیوں پیش آئے؟ اس کی وجہ بجز اس کے کچھ نہیں کہ اُنہوں نے خدا تعالیٰ کی پیشگوئیوں پر غور نہیں کیا اور ظاہر الفاظ پر اِڑے رہے۔اسی قسم کے مشکلات اس وقت مسلمانوں کو پیش آئے ہیں۔لیکن اگر غور کیا جاوے تو اُن کے سامنے تو کوئی نظیر اور فیصلہ موجود نہ تھا لیکن ان کے سامنے تو دوبارہ آنے کا مقدمہ فیصل شدہ موجود ہے جو خود حضرت عیسیٰ ؑکی عدالت سے فیصل ہو چکا ہے۔انہوں نے تاویل کر کے بتادیا تھا کہ دوبارہ آنے والے شخص سے مراد وہی نہیں ہوتا۔پھر کس قدر افسوس ہیان پر کہ یہ اس فیصلہ سے فائدہ نہیں اُٹھاتے۔
لا یلد غ المومن جحر واحد مرتین
یہودیوں کو جس پتھر سے ٹھوکر لگی اور وہ لعنتی ہو گئے۔اسی پتھر سے یہ ٹھوکر کھاتے ہیں۔یہودی اس وقت دنیا مٰں موجود ہیں۔ان کی کتابیں موجود ہیں۔اُن سے دریافت کر لو کہ کیا ان کا یہ عقیدہ تھا یا نہیں کہ مسیح سے پہلے الیاس آئے گا اور ملاکی نبی کی کتاب میں یہ پیشگوئی درج ہے یا نہیں؟ اور پھر عیسائیوں سے