سنایا گیا کہ حضرت عیسیٰ ؑصرف ایک خد اکے بندے اور رسول تھے تو اُن کو آگ لگ گئی۔کیونکہ وہ تو اُنکو خدا بنائے بیٹھے تھے۔آنحضرت ﷺ نے آکر حقیقت کھول دی۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ انسان جس کو خدا بنا لیتا ہے اور اپنا مبعود مانتا ہے۔اس کا ترک کرنا آسن نہیں ہوتا بلکہ پھر ا سکو چھوڑنا بہت ہی مشکل ہو جات اہے۔عیسائیوں کا یہ اعتقاد پختہ ہو گیا ہوا تھا۔اس لیے جب انہوں نے سنا کہ آنحضرت ﷺ نے اُن کے مصنوعی خدا کو انسان بنا دیا تو ہ دشمن جان بن گئے اور اسی طرف پر یہودیوں میں بہت سی مشرکانہ رسومات پیدا ہو گئی تھیں اور وہ حضرت مسیح ک بالکل انکار کرتے تھے۔جب اُن کو متنبہ کیا گیا تو وہ بیھ مخالفت کے لیی اُٹھ کھڑے ہوئے۔وہ تو حضرت مسیح کو معاذ اﷲ مکار اور کذاب کہتے تھے۔بالمقابل آنحضرت ﷺ نے اُن کو بتایا کہ تم اُن کو کذاب کہنے میں خود کذاب ہو۔وہ خد اتعالیٰ کا ایک برگزیدہ نبی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مخالفت کی ایک بڑی بھاری وجہ یہ ہوئی کہ وہ اپنی بے وقوفی اور کم فہمی سے یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ خاتم الانبیاء بنی اسرائیل میں سے آئے گا،کیونکہ توریت میں جیسا کہ سنت اﷲ ہے۔آخر بنی کے متعلق جو پیشگوئی ہے وہ ایسے الفاظ میں ہے جس سے اُن کو یہ شبہ پیدا ہو گیا تھاوہان لکھا ہے کہ تمہارے بھائیوں میں سے۔وہ اس سے مراد بنی اسرائیل ہی لیے بیٹھے تھے؛ حالانکہ اس سے مراد بنی اسماعیل تھی۔پس جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کا دعویٰ سنا کہ وہ خاتم الانبیاء ہیں تو ان کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا۔اور جو کچھ وہ توریت کی اس پیشگوئی کے موافق سمجھے بیٹھے تھے وہ غلط قرار دیا گیا۔اس سے اُن کے آگ لگی اور وہ مخالفت کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ پیشگوئیوں کے متعلق سنت اﷲ اصل بات یہ ہیکہ خد اتعالیٰ کی پیشگوئیوں میں سنت اﷲ یہی ہے کہ ان میں اخفاء اور ابتلاء کا بھی ایک پہلو ہوتاہے کیونک اگر یہ پہلو نہ رکھا جاوے تو پھر کوئی اختلاف ہی نہ رہے اور سب ک یاک ہی مذہب ہو جاتا۔مگر خدا تعالیٰ نے امتیاز کے لیے ایسا ہی چاہا ہے۔کہ پیشگوئیوں میں ایک ابتلا کا پہلو رکھ دیتاہے۔کو تاہ اندیش ،ظاہر پرست اس پر اڑ جاتے ہیں اور اصل مقصد سے دور جا پڑتے ہیں۔اسی طرح پر ان یہودیوں کو یہ مشکل پیش آئی۔کہ وہ آنحضرت ﷺ کے متعلق شک میں پڑ گئے ۔اگر توریت میں وہ پیشگوئی صاف الفاظ میں ہوتی کہ آنے والا بنی اسمائیل میں سے ہوگ ااور اس کا نام محمد (ﷺ) ہوگا ۔اس کے باپ کا نام عبد اﷲ بن عبد المطلب ہوگا اور اس کی ماں کا نام آمنہ ہوگاتو یہودی کیونکر انکار کرتے؟ مگر ان کی بدقسمتی سے پیشگوئی میں ایسی صراحت نہ تھی۔وہاں لکھ اتھا کہ تیرے بھائیوں میں سے