آئی۔لیکن برخلاف اس کے آنحضرت ﷺ کو اپنی ہی قوم سے مشکلات اور انکار کا مرحلہ پیش آیا۔پھر ایسی صورت میں آنحضرت ﷺ کی کامیابیاں کیسی اعلیٰ درجہ کی ثابت ہوئی ہیں جو آپ کے کمالات اور فضائل کا سب سے بڑھ کر ثبوت ہیں۔آنحضرت ﷺ نے جب اﷲ تعالیٰ کے اِذن و امر سے تبلیغ شروع کی تو پہلے ہی آپ کو یہ مرحلہ پیش آیا کہ قوم نے انکار کیا۔لکھا ہے کہ جب آپؐ نے قریش کی دعوت کی اور سب کو بلا کر کہ میں تم سے ایک بات پوچھتا ہو۔اس کا جواب دو۔یعنی میں اگر تمہیں یہ کہوں کہ اس پہاڑ کے پیچھے ایک بڑی بھاری فوج پڑی ہوئی ہے اور ہ اس گھات میں بیٹھی ہوئی ہے کہ موقعہ پاکر تمہیں ہلاک کر دے،تو کای تم باور کروگے۔سب نے بالاتفاق کہا کہ بیشک ہم اس بات کو تسلیم کریں گے۔اس لیے کہ تو ہمیشہ سے صادق اور امین ہے۔جب وہیہ اقرار کر چکے تو پھر آنحضرت نے فرمایا کہ دیکھو میں سچ کہتا ہوں کہ میں خد اتعالیٰ کا پیغمبر ہوں اور تم کو آین والے عذاب سے ڈراتا ہو ں۔اتنی بات کہنی تھی کہ سب آگ ہو گئے اور ایک شریر بول اُٹھا۔ تبا لک سائرالیوم افسوس جو بات ان کی نجات اور بہتری کی تھی نا عاقبت اندیش قوم نے اس کو ہی بُرا سمجھا اور مخالفت پر آماد ہ ہو گئے۔اب اسکے بالمقابل موسیٰ ؑکی قوم کو دیکھو۔بنی اسرائیل باوجود یکہ ایک سخت دل قوم تھی،لیکن انہوں نے حضرت موسیٰ ؑکی تبلیغ پر فوراً ہی اس کو قبول کر لای۔اور اس طرف موسیٰ ؑسے افضل کو قوم نے تسلیم نہ کیا اور مخالفت کے لیے تیار ہو گئے۔مصائب کا سلسلہ شروع ہو گیا۔آئے دن قتل کے منصوبے ہونے لگے۔اور یہ زمانہ اتنا لمبا ہو گیا کہ تیرہ برس تک برابر چلا گیا۔تیرہ برس کا زمانہ کم نہیں ہوتا۔اس عرصہ میں آپؐ نے جس قدر دُکھ اُٹھائے ان کابیان بھی آسان نہیں ہے۔قوم کی طرف سے تکالیف اور ایذارسانی میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی جاتی تھی اور ادھر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے صبر اور استقلال کی ہدایت ہوتی تھی اور بار بار حکم ہوتا تھا کہ جس طرح پہلے نبیوں نے صبر کیا ہے توبھی صبر کر اور آنحضرت ﷺ کمال صب ر کے ساتھ ان تکالیف کو برداشت کرتے تھے اور تبلیغ میں سست نہ ہوتے تھے بلکہ قدم آگے ہی پڑتا تھا۔اور اصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا صبر پہلے نبیوں کا سانہ تھا کیونکہ وہ تو ایک محدود قوم کے لیے مبعوث ہو کر آئے تھے،اس لیے ان کی تکالیف اور ایذارسانیاں بھی اسی حدتک محدود ہوتی تھیں۔؎ٰ لیکن اس کے مقابلہ میں آنحضرت ﷺ کا صبر بہت ہی بڑا تھا،کونکہ سب سے اول تو اپنی ہی قوم آپ ﷺ کی مخالف ہو گئے اور ایذارسانی کے درپے ہوئی اور پھر عیسائی بھی دشمن ہو گئے۔جب اُنکو