مکر و فریب ظاہر ہو جائے گا،لیکن جو اﷲ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے دنیا اس کی کتنی ہی مخالفت کرے وہ اپنی مخالفت اور منصوبوں میں کامیاب نہ ہوگی۔اس کو گالیاں دے۔لعنتیں بھیجے۔لیکن ایک وقت آجائے گا کہ وہی دنیا اس کی طرف رجوع کرے گی اور اس کی سچائی کا اعتراف اسے کرنا پڑے گا۔میں سچ کہتا ہوں کہ اﷲ جس کا ہو جاتا ہے دنیا بھی اس کی ہو جاتی ہے۔ہاں یہ صحیح ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں۔ابتداء اہل دنیا اُن کے دشمن ہو جاتے ہیں اور اُسے قسم قسم کی تکلیفیں دیتے اور ا س کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔کوئی پیغمبر اور مرسل نہیں آیا جس نے دکھ نہ اُٹھایا ہو۔مکار۔فریبی۔دکاندار اس کا نام نہ رکھا ہو۔مگر باوجود اس کے کہ کروڑہا بندوں نے اس پر ہر قسم کے تیر چلانے چاہے۔پتھر مارے۔گالیاں دیں۔انہوں نے کسی بات کی پروا نہیں کی۔کوئی امر اُن کی راہ میں روک نہیں ہوسکا۔وہ دنیا کو خد اتعالیٰ کی کلام سناتے رہے اور وہ پیغام و لے کر آئے تھے۔اس کے پہنچانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔اس تکلیفوں اور ایذارسانیوں نے جو نادان دنیاداروں کی طرف سے پہنچیں ان کو سست نہیں کیا بلکہ وہ اور تیز قسم ہوتے یہانتک کہ وہ زمانہ آگیا کہ اﷲ تعالیٰ نے وہ مشکلات ان پر آسان کر دیں اور مخالفوں کو سمجھ آنے لگی اور پھر وہی مخالف دنیا ان کے قدموں پر آگری اور اُن کی راستبازی اور سچائی کا اعتراف ہونے لگا۔دل اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں وہ جب چاہتا ہے بدل دیتا ہے۔ تبلیغ کی مشکلات یقینا یاد رکھو۔تمام انبیاء کو اپنی تبلیغ میں مشکلات آئی ہیں۔آنحضرتﷺ جو سب انبیاء علیہم السلم سے افضل اور بہتر تھے ۔یہانتک کہ آپ پر سلسلۂ نبوت اﷲ تعالیٰ نے ختم کر دیا یعنی تمام کمالات نبوت آپ پر طبعی طور پر ختم ہو گئے۔باوجود ایسے جلیل الشان نبی ہونے کے کون نہیں جانتا کہ آپؐ کو تبلیغ رسالت میں کس قدر مشکلات اور تکالیف پیش آئیں اور کفار نے کس حدتک آپؐ کو ستایا اور دُکھ دیا۔اس مخالفت میں اپنی ہی قوم اور چچا اور دوسرے بزرگ سب سے بڑھ کر حصہ لینے اولے تھے۔آپؐ کی مصیبتوں اور تکلیفوں کا زمانہ اتنا لمبا ہوا کہ تیرہ برس تک اپنی قوم سے ہر قسم کے دُکھ اُٹھاتے رہے۔اس حالت میں کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ شخص کامیاب ہوگا۔کیونکہ ہر طرف مخالفت کا بازار گرم تھا اور خود اپنے رشتہ دار ہی تشنۂ خون ہو رہے تھے جدُی اور برادری کے لوگوں نے جب قبول نہ کیا تو اوروں کو اور بھی مشکلات پیش آگئے۔غرض اس طرح پر آپﷺ کی مصیبتوں کا زمانہ دراز ہو گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس قسم کے مشکلات پیش نہیں آئے کیونکہ حضرت موسیٰ ؑکی قوم بنی اسرائیل نے ان کو فوراً قبول کر لیا تھا۔اس لیے قوم کی طرھ سے کوئی دُکھ اور مصیبت یا روک ان کو پیش نہیں