نماز کے بعد تسبیح
ایک صاحب نے پوچھا کہ بعد نماز تسبیح لے کر ۳۳ مرتبہ اﷲ اکبر وغیرہ جو پڑھا جاتا ہے۔ اس کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا : آنخضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا وعظ حسبِ مراتب ہوا کرتا تھا اور اسی حفظ مراتب نہ کر نے کی وجہ سے بعض لوگوں کو مشکلات پیش آئی ہیں اور انھوں نے اعتراض کر دیا ہے کہ فلاں دو احادیث میں باہم اختلاف ہے؛ حالانکہ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ وہ تعلیم بلحاظ محل اور موقعہ کے ہوتی تھی ۔ مثلاً ایک شخص آنحضرت صلی اﷲعلیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے پوچھا کہ نیکی کیا ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو معلوم ہے کہ اس میں یہ کمزوری ہے کہ ماں باپ کی عزت نہیں کرتا۔ آپؐ نے فرمایا کہ نیکی یہ ہے کہ تو ماں باپ کی عزت کر۔ اب کوئی خوش فہم اس سے یہ نتیجہ نکال لے کہ بس اور تمام نیکیوں کو ترک دیا جاوے۔ یہی نیکی ہے۔ ایسا نہیں۔ اسی طرح تسبیح کے متعلق بات ہے۔ قرآن شریف میں تو آیا ہے۔
واذکرواﷲکثیرالعلکم تفلحون۔(انفال : ۴۶)
اﷲتعالیٰ کا بہت ذکر کرو تا کہ فلاح پائو۔ اب یہ
واذکرواﷲکثیرا
نماز کے بعد ہی ہے تو ۳۳ مرتبہ توکثیرکے اندر نہیں آتا۔ پس یاد رکھو کہ ۳۳ مرتبہ والی بات حسب مراتب ہے؛ ورنہ جو شخص اﷲتعالیٰ کو سچے ذوق اور لذت سے یاد کرتا ہے، اسے شمار سے کیا کام۔ وہ تو بیرون از شمار یاد کرے گا۔
ایک عورت کا قصّہ مشہور ہے کہ وہ کسی پر عاشق تھی۔ اس نے ایک فقیر کو دیکھا کہ وہ تسبیح ہاتھ میں لیے ہوئے پھیر رہا ہے۔ اس عورت نے اس سے پوچھا کہ تو کیا کر رہا ہے اس نے کہا کہ میں اپنے یار کو یاد کرتا ہوں۔ عورت نے کہا کا یار کو یاد کرنا اور پھر گِن گِن کر؟
درحقیقت یہ بات بالکل سچی ہے کہ یار کو یاد کرنا ہو تو پھر گن گن کر کیا یاد کرنا ہے اور اصل بات یہی ہے کہ جب تک ذکر الہیٰ کثرت سے نہ ہو وہ لذت اور ذوق جو اس ذکر میں رکھا ہے حاصل نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اﷲعلیہ و سلم نے جو ۳۳ مارتبہ فرمایا ہے وہ آنی اور شخصی بات ہو گی کہ کوئی کہ کوئی شخص ذکر نہ کرتا ہوگا توآپؐ نے اسے فرما دیا کہ ۳۳ مرتبہ کر لیا کر۔ اور یہ تو تسبیح ہاتھ میں لے کر بیٹھتے ہیں۔ یہ مسئلہ بالکل غلط ہے۔ اگر کوئی شخص آنحضرت صلی اﷲ علیہ و سلم کے حالات سے آشنا ہو تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ آپؐ نے کبھی ایسی باتوں کا التزام نہیں کیا۔ وہ تو اﷲتعالیٰ کی راہ میں فنا تھے۔ انسان کو تعجب آتا ہے کہ کس مقام اور درجہ پر آپ پہنچے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اﷲعنہا کہتی ہیں کہ ایک رات آپ صلی اﷲعلیہ و سلم میرے گھر میں تھے۔ رات کو جب میری آنکھ کھلی تو میں نے آپؐ کو اپنے بستر پر نہ پایا۔ مجھے خیال گذرا کہ کسی دوسری بیوی کے گھر میں ہوں گے؛ چنانچہ میں نے سب گھروں میں دیکھا، مگر آپؐ کو نہ پایا۔ پھر