درندوں وار موذی جانوروں سے بھرا ہوا یہ۔وہ سمجھ سکت اہیکہ اس کی خیر ہرگز نہیں ہے۔ایک لمحہ میں وہ موذی جانوروں کا شکار ہو جائے گا اور اس کی نڈی بوٹی نظر نہ آئے گی۔اس لیے یاد رکھو کہ انسان کی بری سعادت اور اس کی حفاظت کا اصل ذریعہ ہی یہی دعا ہے۔یہی دعا س کے لیے پناہ ہے۔اگر وہ ہر وقت اس میں لگا رہے۔
قرآنی نصائح کا مغز
یہ بھی یقینا سمجھو کہیہ ہتھیار اور نعمت صرف اسلام ہی میں دی گئی ہے۔دوسرے مذاہب اس عطیہ سے محروم ہیں۔آریہ لوگ بھلا کیوں دعا کریں گے جبکہ ان کا یہ اعتقاد ہیکہ تناسخ یک ثکر میں سے ہم نکل ہی نہین سکتے ہیں اور کسی گناہ کی معافی کی کوئی امید ہی نہیں ہے۔ان کو دعا کی کیا حاجت اور کای ضرورت اور اس سے کیا فائدہ اس سے صاف معلوم ہوت اہے کہ آریہ مذہب میں دعا ایک بے فائدہ چیز ہے اور پھر عیسائی دعا کیوں کریں گے جبکہ وہ جانتے ہیں کہ دوبارہ کوئی گناہ بخشا نہیں جائیگا، کیونکہ مسیح دوبارہ تو مصلوب ہو ہی نہیں سکتا۔پس یہ خاص اکرام اسلما کے لیے ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ امت مرحومہ ہے۔لیکن اگر آپ ہی اس فضل سے محرو م ہو جاویں اور خود ہی اس دروازہ کو بند کر دیں ،تو پھر کس کا گناہ ہے۔جب ایک حیات بخش ثشمہ موجد ہے اور ہر وقت اس مین سے پانی پی سکتاہے۔پھر اگر کوئی اس سے سیراب نہیں ہوتا تو خود طالب موت اور تشنہ ہلاکت ہے۔اس صورت میں تو چاہیے کہ اس پر منہ رکھ دے اور خوب سیراب ہو کر پانی پی لیوے۔یہ میری نصیحت ہے جس کو میں ساری نصائح قرآنی کا مغز سمجھتا ہوں۔قرآن شریف کے تیس سپارے ہیں اور وہ سب کے سب نصائح سے لبریز ہیں۔لیکن ہر شخص نہیں جانتا کہ ان میں سے وہ نصیحت کون سی ہے جس پر اگر مضبوط ہو جاویں اور اس پر پورا عملدر آمد کریں تو قرآن کریم کے سارے احکام پر چلنے اور ساری منہیات سے بچنے کی توفیق مل جاتی ہے۔مگر میں تمہیں بتاتا ہوں کہ وہ کلید اور قوت دعا ہے۔دعا کو مضبوطی سے پکڑلو۔میں یقین رکھتا ہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ پھر اﷲ تعالیٰ ساری مشکلات کو آسان کر دے گا۔لیکن مشکل یہ ہے کہ لوگ دعا کی حقیقت سے ناواقف ہیں اور وہ نہیں سمجھتے کہ دعا کیا چیز ہے۔دعا یہی نہیں ہے کہ ثند لفظ منہ سے بڑ بڑا لیے۔یہ تو کچھ بھی نہیں۔دعا اور دعوت کے معنی ہیں۔اﷲ تعالیٰ کو اپنی مدد کے لیے پکارنا۔اور اس کا کمال اور مؤثر ہونا اس وقت ہوتا ہے جب انسان کمال درد دل اور قلق اور سوز کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کو پکارے ایسا کہ اس کی روح پانی کی طرح گداذ ہو کر آستانہ الوہیت کی طرف بہہ نکلے یا جس طرح پر کوئی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے اور وہ دوسرے لوگوں کو اپنی مدد کے لیے پکارتا ہے تو دیکھتے ہو کہ اس کی پکار میں کیسا انقلاب اور تغیر ہوتا ہے۔اس کی آواز ہی میں