اور وہ تجھ سے راضی۔پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آجا۔
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ سچا رجوع اس وقت ہوتا ہے جبکہ خد اتعالیٰ کی رضا سے رضاء انسانی مل جاوے۔یہ وہ حالت ہے جہاں انسان اولیاء اور ابدال اور مقربین کا درجہ پاتا ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں اﷲ تعالیٰ سے مکالمہ کا شرف ملتا ہے اور وحی کی جاتی ہے۔اور چونکہ وہ ہر قسم کی تاریکی اور شیطانی شرارت سے محفوظ ہوت اہے۔ہر وقت اﷲ تعالیٰ کی رضا میں زندہ ہوت اہے،اس لیے وہ ایک ابدی بہشت اور سرور میں ہوتا ہے ۔انسانی ہستی کا مقصد اعلیٰ اور غرض اسی مقام کا حاصل کرنا ہے اور یہی وہ مقصد ہے جو اسلام کے لفظ میں اﷲ تعالیٰ نے رکھا ہے، کیونکہ اسلام سے سچی مراد یہی ہے کہ انسان اﷲ تعالیٰ کی رضا کے تابع اپنی رضا کرلے۔
بلند تر مراتب پانے کے لیے دعا کی ضرورت ہے
مگر سچ یہ ہے کہ یہمقام انسان کی اپنی قوت سے نہیں مل سکتا۔ہاں اس میں کلام نہیں کہ انسان کا فرض ہیکہ وہ مجاہدات کرے،لیکن اس مقام کے حصول کا اصل اور سچا ذریعہ دعا ہے۔انسان کمزور ہے جبتک دعا سے قوت اور تائید نہیں پاتا۔اس دشوار گذار منزل کو طے نہیں کر سکتا۔خود اﷲ تعالیٰ نے انسن کی کمزوری اور اس کے ضعفِ حال کے متعلق ارشاد فرمایا ہے
خلق الانسان ضعیفا (النساء : ۲۹)
یعنی انسان اور کمزور بنایا گیا ہے۔پھر باوجدو اس کی کمزوری کے اپنی ہی طاقت سے ایسے عالی درجہ اور ارفع مقام کے حاصل کرنے کا دعویٰ کرناسراسر خام خیالی ہے۔اس کے لیے دعا کی بہت بڑی ضرورت ہے۔دعا ایک زبردست طاقت ہے جس سے بڑے بڑے مشکل مقام حل ہو جاتے ہیں اور دشوار گذار منزلوں کو انسن بڑی آسانی سے طے کر لیت اہے کیونکہ دعا اس فیض اور قوت کو جذب کرنے والی ہے جو اﷲ تعالیٰ سے آتی ہے۔جو شخص کثرت سے دعائوں میں لگا رہتا ہے وہ آخر اس فیض کو کھینچ لیتا ہے اور خدا تعالیٰ سے تائید یافتہ ہو کر اپنے مقاصد کو پالیتا ہے۔ہاں نری دعا خدا تعالیٰ کا منشاء نہیں ہے بلکہ اول تمام مساعی اور مجاہدات کو کام میں لائے اور اس کے ساتھ دعا سے کام لے۔اسباب سے کام لے۔اسباب سے کام نہ لینا اور نری دعا سے کام لینا یہ آداب الدعا سے ناواقفی ہے۔اور خدا تعالیٰ کو آزمانا ہے۔اور نرے اسباب پر گر رہنا۔اور دعا کو لاشئی محض سمجھنا یہ دہریت ہے۔یقینا سمجھو کہ دعا بڑی دولت ہے۔جو شخص دعا کو نہیں چھوڑتا ۔اس کے دین اور دنیا پر آفت نہ آئے گی۔وہ ایک ایسے قلعہ میں محفوظ ہے جس کے اردگرد مسلح سپانی ہر وقت حفاظت کرتے ہیں۔لیکن جو دعائوں سے لا پروا ہے وہ اس شخص کی طرف ہے جو خود بے ہتھیار ہے اور اس پر کمزور بھی ہے اور پھر ایسے جنگل میں ہے جو