وہ درد بھرا ہوا ہوتا ہے جو دوسروں کے رحم کو جذب کرتا ہے۔اسی طرح وہ دعا جو اﷲ تعالیٰ سے کی جاوے۔ اس کی آاز، اس کا لب و لہجہ بھی اور ہی ہوتا ہے۔اس میں وہ رقت اور درد ہوت اہے جو الوہیت کے چشمۂ رحم کو جوش میں لاتا ہے۔اس دعا کے وقت آواز ایسی ہو کہ سارے اعضاء اس سے متاثر ہوجاویں اور زبان میں خشوع خضوع ہو۔دل میں درد ارو رقت ہو۔اعضاء میں انکسار اور رجوع الی اﷲ ہو۔اور پھر سب سے بڑھ کر اﷲ تعالیٰ کے رحم و کرم پر کامل ایمان اور پوری امید ہو۔اس کی کدرتوں پر ایمان ہو۔ایسی حالت میں جب آستانۂ الوہیت پر گرے۔نمراد واپس نہ ہوگا۔چاہیے کہ اس حالت میں بار بار حضور الٰہی میں عرض کرے کہ میں گنہگار اور کمزور ہوں۔تیری دستگیری اور فضل کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔تُو آپ رحم فرما اور مجھے گناہوں سے پاک کر،کیونکہ تیرے فضل و کرم کے سوا کوئی اور نہیں ہے جو مجھے پاک کرے۔جب اس قسم کی دعا میں مداومت کرے گا اور استقلال اور صبر کے ساتھ اﷲ تعالیٰ کے فضل اور تائید کا طالب رہے گا تو کسی نا معلوم وقت پر اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ایک نور اور سکینت اس کے دل پر نازل ہوگی جو دل سے گناہ کی تاریکی دور کر دیگی۔اور غیب سے ایک قوت عطا ہوگی جو گناہ سے بیزاری پیدا کر دے گی اور وہ ان سے بچے گا۔اس حالت میں دیکھے گا کہ میرا دل جذبات اور نفسانی خواہشوں کا ایسا اسیر اور گرفتار تھا کہ کہ گویا ہزاروں ہزار زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا جو بے اختیار اُسے کھینچ کر گناہ کی طرف لے جاتے تے اور یا یک دفعہ وہ سب زنجیر ٹوٹ گئے ہیں اور آزاد ہو گیا ہے اور جسیے پہلی حالت میں وہ محسوس اور مشاہدہ کرے گا کہ وہی رغبت اور رجوع اﷲ تعالیٰ کی طرف ہے۔گناہ سے محبت کی بجائے نفرت اور اﷲ تعالیٰ سے وحشت اور نفرت کی بجائے محبت ارو کشش پیدا ہوگی۔ یہ ایک زبردست صداقت ہے جو اسلما میں موجود ہے اس کا انکار ہرگز نہیں ہوسکتا۔اس لیے کہ اس کا زندہ ثبوت ہر زمانہ میں موجود رہتا ہے۔میں دعویٰ سے کہتاہوں اور اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہا گر انسان اس امر کو سمجھ لے اور وہ دعا کے راز سے آگاہ ہو جاوے تو اس میں اس کی بری ہی سعادت اور نیک بختی ہے اور اس صورت میں سمجھو کہ گویا اس کی ساری ہی مرادیں پوری ہو گئی ہیں؛ ورنہ دنیا کے ہّم و غم تو اس قسم کے ہیں کہ انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ روبخدا ہو جائو جو شخص رُوبَدُنیا ہوتا ہے وہ تھوڑی دور چل کر رہ جاتا ہے کیونکہ نامرادیاں اور ناکامیاں آخر آکر ہلاک کر دیتی ہیں،لیکن جو شخص ساری قوتوں اور طاقتوں کے ساتھ رو بخا ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ ہی کے لیے اس کی سب حرکات و سکانات ہوتی ہیں تو خدا تعالیٰ دنای کو بھی ناک سے پکڑ کر اس کا خادم بنا دیتا ہے؛ اگر چہ اس خالت میں بہت فرق ہوتا ہے ۔دنیا دار