شیطان پر غالب آجاتا ہے،لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ ایک شخص علانیہ بدکاری مٰں مبتلا ہے اور دوسری خطا کاریوں سے باوجود یکہ اُن کی براتی سے آگاہ ہے باز نہیں آتا تو پھر بجز اس کے اور کیا کہنا پڑے گا کہ وہ خد اتعالیٰ پر ایمان نہیں رکھتا۔اگر ایمان رکھتا تو کیوں ان بدیوں سے نہ بچتا،کیونکہ وہ جانتا ہے کہ خدا گناہ سے سخت بیزار ہے اور اس کا نتیجہ بہت ہی برا اور تکلیف دہ ہے۔
Amira 28-7-05
انسانی نفس کے مراتب
نفس کی تین حالتیں ہیں۔یا یہ کہو کہ نفس تین رنگ بدلتا ہے۔بچپن کی حالت میں نفسِ زکیّہ ہوتا ہے۔یعنی بالکل سادہ ہوتا ہے۔اس عمر کے طے کرنے کے بعد پھر نفس پر تین حالتیں آتی ہیں سب سے اول جو حالت ہوتی ہیاس کا نام نفسِ امارہ ہے۔اس حالت میں انسان کی تمام طبعی قوتیں جوش زن ہوتی ہیں اور اس کی ایسی مثال ہوتی ہے جیسے دریا کا سیلاب آجاوے اس وقت قریب ہے کہ غرق ہو جاوے۔یہ جوشِ نفس ہر قِسم کی بے اعتدالیوں کی طرف لے جاتا ہے۔
لیکن پھر اس پر ایک حالت اور بھی آجاتی ہے جس کا نام نفسِ لوامہ ہے۔اس کا نام لوّامہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ بدی پر ملامت کرتا ہے اور یہ حالت نفس کی روا نہیں رکھتی کہ انسان ہر قسم کی بے اعتدالیوں اور جوشوں کا شکار ہوتا چلا جاوے۔جیسا کہ نفسِ امارہ کی صورت میں تھا۔بلکہ نفس لوامہ اُسے بدیوں پر ملامت کرتا ہے۔یہ سچ یہ کہ نفس لوامہ کی خالت میں انسان بالکل گناہ سے پاک اور بری نہیں ہوتا مگر اس میں بھی کوئی کلام نہیں کہ اس حالت میں انسان کی شیطان اور گناہ کے ساتھ ایک جنگ ہوتی رہتی ہے۔کبھی شیطان غالب آجاتا ہے اور کبھی وہ غالب آجاتا ہے۔مگر نفسِ لَوّامہ والا خدا تعالیٰ کے رحم کا مستحق ہوتا ہے۔اس لیے کہ وہ بدیوں کے خلاف اپنے نفس سے جنگ کرتا رہتا ہے اور آخر اس کشمکش اور جنگ و جدل میں اﷲ تعالیٰ اس پر رحم کر دیتا ہے اور اُسے وہ نفس کی حالت عطا ہوتی ہے جس کا نام مُطمنّہ ہے۔یعنی اس حالت میں انسان شیطان اور نفس کی لڑائی میں فتح پا کر انسانیت اور نیکی کے قلعہ کے اندر آکر داخل ہو جاتا ہے اور اس قلعہ کو فتح کر کے مطمئن ہو جاتا ہے۔اس وکت یہ خدا پر راضی ہوت اہے اور خدا تعالیٰ اس پر راقی ہوت اہے۔کیونکہ یہ پورے طور پر اﷲ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت میں قتعا اور محو ہو جاتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی مقادیر کے ساتھ اسکو پوری صلح اور رضا حاصل ہوتی ہے؛ چنانچہ فرمایا
یا یتھا النفس المطمئنۃارجعی الی ربک راضیۃ مر ضیۃ۔فادخلی فی عبادی
وادخلی جنتی (الفجر :۲۸-۳۱)
یعنی اے نفر آرام یافتہ جو خدا سے آرام پا گیا یہ اپنے خد اکی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی