ہرگز نہیں پوچھا جاوے گا کہ تیرا باپ کون ہے۔وہان تو اعمال کام آئیں گے۔میں یقینا جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کے قرب سے زیادہ دور پھینکنے والی اور حقیقی نیکی کی طرف آنے سے روکنے والی بڑی بات یہی ذات کا گھمنڈ ہے کیونکہ اس سے تکبر پید اہوتا ہے اور تکبر ایسی شے ہے کہ وہ محروم کر دیتاہے۔علاوہ ازیں وہ اپنا سارا سہارا اپنی غلط فہمی سے اپنی ذات پر سمجھتا ہے کہ میں گیلانی ہوں یا فلاں سید ہوں؛ حالانکہ وہ نہیں سمجھتا کہ یہ ثیزیں وہاں کام نہیں آئیں گی۔ذات اور قوم کی بات تو مرنے کے ساتھ ہی الگ ہو جاتی ہے۔مرنے کے بعد اس کا کوئی تعلق باقی رہتا ہی نہیں۔اس لیے اﷲ تعالیٰ قرآن شریف میں یہ فرمایا ہے۔ من یعمل مثقال ذرۃ شرایرہ (الزلزال : ۹) کوئی برا عمل کرے خواہ کتنا ہی کیوں نہ کرے اس کی پاداش اس کو ملے گی۔یہاں کوئی تخصیص ذات اور قوم کی نہیں اور پھر دوسری جگہ فرمایا ان اکرمکم عند اﷲ اتقکم (الحجرات : ۱۴) اﷲ تعالیٰ کے نزدیک مکرم وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ پس ذاتوں پر ناز اور گھمنڈ نہ کرو کہ یہ نیکی کے لیے روک کا باعث ہو جاتا ہے۔ہاں ضروری یہ ہے کہ نیکی اور تقویٰ میں ترقی کرو۔خدا تعالیٰ کے فضل اور برکات اسی راہ سے آتے ہیں۔میں خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت اور ہم جو کچھ ہیں اسی حال میں اﷲ تعالیٰ کی تائید اور اُس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی کہ ہم صراط مستقیم پر چلیں اور آنحضرت ﷺ کی کامل اور سچی اتباع کریں۔قرآن شریف کی پاک تعلیم کو اپنا دستور العمل بنادیں اور ان باتوں کو ہم اپنے عمل اور حال سے ثابت کریں نہ صرف قال سے۔اگر ہم اس طریق کو اختیار کریں گے تو یقینا یاد رکھو کہ ساری دنیا بھی مل کر ہم کو ہلاک کرنا چاہے تو ہم ہلاک نہیں ہوسکتے۔اس لیے کہ خدا ہمارے ساتھ ہوگا۔ لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کے نافرمان اور اس سے قطع تعلق کر چکے ہیں تو ہماری ہلاکت کے لیے کسی کو منصوبہ کرنے کی ضرورت نہیں۔کسی مخالفت کی حاجت نہیں۔وہ سب سے پہلے خود ہم کو ہلاک کر دیگا۔ ہمیشہ سے سنت اﷲ اسی طرح پر چلی آئی ہے۔جب بنی اسرائیل نے خد اتعالیٰ کی نافرمانی اختیار کی اور اس نے گناہ کیا۔خدا تعالیٰ نے اس قوم کو ہلاک کیا؛ حالانکہ حضرت موسیٰ ؑپیغمبر اُن میں موجود تھے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ گناہ سے سخت بیزار ارو متنفر ہے۔وہ کبھی پسند نہیں کر سکت اکہ ایک شخص بغاوت کرے ارو اس کو سزا نہ دی جاوے۔ یہ بات بھی خوب یاد رکھو کہ گنہگار خد اتعالیٰ پر ایمان اور یقین نہیں رکھتا۔اگر ایمان رکھتا تو ہر گز گناہ کرنے کی جرأت نہ کرتا۔حدیث میں جو آیا ہے کہ چوری کرنے والا یا زانی یا بدکار اپنے فعل کے وقت مومن نہیں ہوتا۔اس کا بھی یہی مطلب ہے کیونکہ سچا ایمان تو گناہ سے دور کرتا ہے اور شیطاعن کی کُشتی میں وہ