اتفاق رکھتا ہوںاور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے چاہا ہے کہ یہ جماعت گناہوں سے پاک ہو اور اپنے چال چلن کا عمدہ نمونہ دکھاوے وہ قرآن شریف کی سچی تعلیم پر سچی عامل ہو اور آنحضرت ﷺ کے اتباع میں فنا ہو جاوے۔ان میں باہم کسی قسم کا بغض و کینہ نہ رہے۔وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ پوری اور سچی محبت کرنے والی جماعت ہو۔لیکن اگر کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر بھی اس غرض کو پورا نہیں کرتا اور سچی تبدیلی اپنے اعمال سے نہیں دکھاتا وہ یاد رکھے کہ دشمنوں کی اس مراد کو پورا کر دے گا۔وہ اولاد جو انبیاء کی اولاد کہلاتی تھی۔یعنی بنی اسرائیل جن میں کثرت سے نبی اور رسول آئے اور خدا تعالیٰ کے عظیم الشان فضلوں کے وہ وارث اور حقدار ٹھہرائے گئے تھے۔لیکن جب اس کی روحانی حالت بگڑی اور اُس نے راہِ مستقیم کو چھوڑ دیا ۔سرکشی اور فسق و فجور کو اختیار کیا۔نتیجہ کیا ہوا؟
ضربت علیہم الذلۃ و المسکنۃ (البقرۃ : ۶۲)
کی مصداک ہوئی۔خدا تعالیٰ کا غضب ان پر ٹوٹ پڑا۔اور ان کا نام سؤر اور بندر رکھا گیا۔یہانتک وہ گر گئے کہ انسانیت سے بھی اُن کو خارج کیا گیا۔یہ کس قدر عبرت کا مقام ہے۔بنی اسرائیل کی حالت ہر وقت ایک مفید سبق ہے۔اسی طرح یہ قوم جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے وہ قوم ہے کہ خدا تعالیٰ اس پر بڑے بڑے فضل کرے گا۔لیکن اگر کوئی اس جماعت میں داخل ہو کر خد تعالیٰ سے سچی محبت اور رسول اﷲ ﷺ کی سچی اور کامل اتباع نہیں کرتا وہ چھوٹا ہو یا بڑا کاٹ ڈالا جائے گا اور خدا تعالیٰ کے غضب کا نشانہ ہوگا۔پس تمہیں چاہیے کہ کامل تبدیلی کرو اور جماعت کو بدنام کرنے والے نہ ٹھہرو۔
خاندانی تفاخر
بعض نادان ایسے بھی ہیں جو ذاتوں کی طرف جاتے ہیں اور اپنی ذات پر بڑا تکبر اور ناز کرتے ہیں۔بنی اسرائیل کی ذات کیا کم تھی جن میں نبی اور رسول آئے تھے۔لیکن کیا اُن کی اس اعلیٰ ذات کا کوئی لحاظ خدا تعالیٰ کے حضور ہوا۔جب اس کی حالت بدل گئی۔ابھی میں نے کہا ہیکہ ان کا نام سؤر اور بندر رکھا گیا اور اسے اس طرح پر انسانیت کے دائرہ سے خارج کر دیا۔میں نے دیھک اہے کہ بہت لوگوں کو یہ مرض لگا ہوا ہے۔خصوصاً سادات اس مرض میں بہت مبتلا ہیں۔وہ دوسروں کو حقیر سمجھے ہیں اور اُسے ذرا بھی تعلق نہیں ہے۔آنحضرت ﷺ جو سید ولد آدم اور افضل الانبیاء ہیں۔انہوں نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا سے صاف طور پر فرمایا کہ اے فاطمہؓ تو اس رشتہ پر بھروسہ نہ کرنا کہ میں پیغمبر زادی ہوں۔قیامت کو یہ