پورے طور پر خدا تعالیٰ کا مطیع اور وفادار بندہ نہیں بنتا اور کامل نیکی نہیں کرتا۔اس وقت تک اس کے انوار و برکات ظاہر نہیں ہوتے۔ادھوری اور نا تمام باتوں سے بعض اوقات ٹھوکر لگتی ہے۔ایک شخص نیکی کو اس کے کمال تک تو پہنچاتا نہیں اور اس سے ان ثمرات کی توقع کرتا ہے جو اس کے درجہ کمال پر پیدا ہوتے ہیں اور جب وہ نہیں ملتے تو اس سچی اور پاک تعلیم سے بدظن ہونے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ کچھ بھی نہیں۔بہت سے لوگ اسی طرح پر گمراہ ہوئے ہیں۔لیکن میں یقینا کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے جو تعلیم پیش کی ہے اور جس طریق پر نیکی کی راہیں بتائی ہیں ان پر اور اس درجہ تک عامل ہونے سے انسان وہ تمام کمالات اور برکات حاصل کر سکتاہے جن کا وعدہ دیا گیا ہے۔اسی پاک تعلیم کی سچی اور کامل پیروی سے ولی اﷲ اور ابدال بنتے ہیں۔بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ولی اﷲ یا ابدال بننے کے لیے کوئی خاص راہ ہے جو قرآن شریف میں نہیں ہے۔وہ سخت نادان اور غلطی پر ہیں ۔یہی وہ راہ ہے جس سے یہ درجے بھی حاصل ہوتے ہیں۔ولی یا ابدال کای کرتے ہیں؟ یہی کہ وہ سچی تبدیلی کر لیتے ہیں اور قرآن شریف کی تعلیم کا سچا متبع اپنے آپ کو بناتے ہیں اور نیکی کو اس حد اور درجہ تک کرتے ہیں جو اس کے کمالات کے لیے مقرر ہے۔یہی نماز، روزہ ،زکوٰۃ،صدقات وغیرہ بھی بجالاتے ہیں،لیکن ان میں اور دوسرے لوگوں میں اس قدر فرق ہے کہ وہ اس حد تک ان اعمالِ صالحہ کو بجالاتے ہیں کہ اُن میں ایک قوت اور طاقت آجاتی ہے اور اُن سے وہ افعال سر زد ہوتے ہیں جو دوسروں کی نظر میں خوارق ہوتے ہیں اس کی وجہ کیا ہے؟ یہی کہ وہ اعمالِ صالحہ کو پورے طور پر بجالاتے ہیں۔پس جو شخص پوری نیکی کرتا ہے اور اس کو ادھور اور ناقص نہیں چھوڑتا اور قرآن شریف کی تعلیم کا پورا پابند اپنے آپ کو بنالیتا ہے وہ یقینا ولی اور ابدال ہو جاتا ہے۔جو چاہے بن سکتا ہے۔ہاں یہ سچ ہے کہ اس کے واسطے بڑی دعائوں کی ضرورت ہے۔اور دعا کی تعلیم بھی قرآن شریف کی تعلیم ہے۔جس کے لیی جابجا ہدایت کی گئی ہے،بلکہ اس کا شروع ہی دعا سے ہوا ہے۔اس بات کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ جیسے اگر کسی شخص کو زندہ رکھنا مقصود ہے تو ضرور ہے کہ اس کو پوری غذادی جاوے چند دانوں پر اس کی زندگی کی امید کرنا خیال خام ہے۔اسی طرح اﷲ تعالیٰ میں زندگی حاصل کرنے کے لیے پوری نیکیوں کا کرنا ضروری ہے جو اس طریق کو چھوڑتا ہے وہ آج نہیں کل مر جاوے گا۔قرآن شریف نے اسی اصل کو بتایا ہے جو زیادہ خظ اٹھانا چاہتا ہے اُسے چاہیے کہ زیادہ توجہ کرے۔ جماعت احمدیہ کے لیے خصوصی نصائح ہماری جماعت(جس سے مخالف بُغض رکھتے ہیں ارو چاہتے ہیں کہ یہ جماعت ہلاک اور تباہ ہو جاوے) کو یاد رکھنا چاہیے کہ میں اپنے مخالفوں سے باوجود اُن کے بغض کے ایک بات میں