محض اپنے فضل و کرم سے اُس کی آگاہی اور تنبیہہ کے لیے اپنا ایک مامور بھیج دیتا ہے وہ دنیا آکر اہل دنیا کو اس خطرناک عذاب سے ڈراتا ہے جو اس کی شرارتوں اور شوخیوں کی وجہ سے آنے والا ہوت اہے اور ان کو اس زہر سے جو گناہ کی زہر ہے بچانا چاہتا ہے جو سعید الفطرت ہوتے ہیں وہ اس کے ساتھ ہو جاتے ہیں۔اور سچی توبہ کر کے فائدہ اُٹھاتے ہیں۔لیکن شریر النفس اپنی شرارتوں میں ترقی کرتے اور ا سکی باتوں کو ہنسی ٹھٹھے میں اُڑ ا کر خدا تعالیٰ کے غضب کو بھڑکاتے ہیں اور آخر تباہ ہو جاتے ہیں۔ خدا تعالیٰ سے سچا تعلق عبودیت ہو آجکل یہی زمانہ آیا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کے ساتھ جو سچا تعلق عبودیت کا ہوان چاہیے اور جو محبت اپنے خالق سے ضروری ہے وہ کہاں ہے؟ ہر ایک شخص اپنی جگہ پر غور کرے اور اپنے نفس پر قیاس کرکے دیکھے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ اس کے تعلقات کس قدر ہیں آیا وہ دنیا اور اس کی شان وشوکت کو اپنا معبود سمجھتا ہے یا حقیقی خدا کو معبود مانتا ہے۔اس کے تعلقات اپنے نفس، اہل و عیال اور دوسری مخلوق کے ساتھ کس قسم کے ہیں؟ ان میں خدا تعالیٰ کا کس درجہ تک ہے۔ان باتوں پر جب آپ غور کریں گے اور خالی الذہن ہو کر غور کریں گے تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ یہ وہ وقت آیا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی رشتہ اور پیوند رکھا ہی نہیں ہے۔اکثر ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے وجود اور ہستی ہی کا یقین نہیں رکھتے اور جو بعض مانتے ہیں کہ خد اہے ان کا ماننا نہ ماننا برابر ہو رہا ہے کیونکہ وہ تقویٰ اﷲ اور خشیتہ اﷲ جو خدا تعالیٰ پر ایمان لانے سے پیدا ہوتی ہے اُن میں پائی نہیں جاتی۔گناہ سے نفرت اور احکام الٰہی کی پابندی اور نواہی سے بچنا نظر نہیں آتا۔پھر کیونکر تسلیم کر لیا جاوے کہ یہ لوگ فی الحقیقۃ خدا تعالیٰ پر ایمان لائے ہوئے ہیں۔؎ٰ اور ماسوا اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ جبتک کامل اور پورا تعلق نہ ہو۔وہ برکات اور فیوض جو اس تعلق کے لازمی نتائج ہیں حاصل نہیں ہوتے۔اس کی مثال ایسی ہیکہ جہاں ایک پیالہ پانی کا بی کر سیر ہوان ہو وہاں ایک قطرہ کہاں تک مفید ہو سکت اہے اور تشنہ لبی کو بُجھا سکتا ہے اور جہاں دس تولہ دوا کھانی ہو وہاں ایک چاول یا ایک رتی سے کیا ہوگا؟ اسی طرح پر جب تک انسان