دور ہوتا چلا جاتا ہے اور وہ روشنی اور نور جو خد اتعالیٰ کے قرب میں اُسے ملنی تھی اس سے پرے ہٹتا جاتا ہے اور تاریکی میں پڑ کر ہر طرف سے آفتوں اور بلائوں کا شکار ہو جاتا ہے۔یہانتک کہ سب سے زیادہ خطرناک دشمن شیطان اس پر اپنا قابو پا لیتا ہے اور اُسے ہلاک کر دیتا ہے۔لیکن اس خطرناک نتیجہ سے بچنے کے لیے اﷲ تعالیٰ نے ایک سامان بھی رکھا ہوا۔اگر انسان اس سے فائدہ اُٹھائے تو وہ اس ہلاکت کے گڑھے سے بچ جاتا ہے اور پھر خدا تعالیٰ کے قرب کوپاسکت اہے۔وہ سامان کیا ہے۔رجوع الی اﷲ یا سچی توبہ۔خدا تعالیٰ کا نام تواب ہے۔وہ بھی رجوع کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ انسان جب گناہ کرتا ہے،تو اﷲ تعالیٰ سے دور ہو جات ہے اور خد اتعالیٰ اس سے بعید ہوتا ہے۔لیکن جب انسان رجوع کرتا ہے یعنی اپنے گناہوں سے نادم ہو کر پھر خدا تعالیٰ کی طرف جھُکتا ہے تو اس کریم رحیم خدا کا رحم اور کرم بھی جوش میں آتا ہے اوروہ اپنے بندہ کی طرف توجہ کرتا ہے اور رجوع کرتا ہے۔اس لیے اس کا نام تواب ہے۔پس انسان کو چاہیے کہ اپنے رب کی طرف رجوع کرے تا کہ وہ اس کی طرف رجوع برحمت کرے۔ شامتِ اعمال انسان جس قدر مشکلات اور مصائب میں مبتلا ہوتا ہے اور دنیا میں اس پر آفتیں آتی ہیں۔یہ سب شامتِ اعمال ہی سے آتی ہیں۔میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا کہ لوگ ایک دھوکہ میں پڑ جاتے ہیں کہ ہم پر اگ مصیبتیں آئیں تو کای ہوا؟ انبیاء علیہم السلام پر بھی مصیبتیں آئی ہیں۔لیکن وہ نہیں جانتے کہ انبیاء علیہم السلام کی مصیبتوں اور تکلیفوںس ے ان کی مصائب اور مشکلات کو کوئی نسبت نہیں۔انبیاء علیہم السلام کی مصائب میں لذت ہوتی ہے۔وہ قربِ الٰہی کے بڑھانے کا موجب ہوتی ہیں۔ان سے محبت بڑھتی ہے اور ان کا فوق العادت استقلال اور رضا وتسلیم اعلیٰ درجہ کی معرفت کا باعث بنتا ہے۔برخلاف اس کے یہ مصیبتیں اور بلائیں وبائیں جو گناہ کی شامت سے آتی ہیں اُن میں درد اور تکلیف کے علاوہ خد اسے بُعد ہوتا ہے اور ایک تاریکی چھا جاتی ہے۔آخر بالکل تباہی اور بربادی ہو جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک زہر ہے۔زہر کھ کر کوئی بچ نہیں سکتا۔پس گناہ کی زہر کھا کر یہ توقع کرنا کہ وہ بچ جائے گا خطرناک غلطی ہے۔یقینا یاد رکھو جو گناہ سے بعاز نہیں آتا وہ آخر مرے گا اور ضرور مرے گا۔اﷲ تعالیٰ نے انبیاء اور رسل کو اسی لیے بھیجا اور اپنی آخری کتاب قرآن مجید اس لیے نازل فرمائی کہ دنیا اس زہر سے ہلاک نہ ہو بلکہ اس کی تاثیرات سے واقف ہو کر بچ جاوے۔قدیم سے سنت اﷲ اسی طرف پر چلی آئی ہے کہ جب دنیا پر گناہ کی تاریکی پھیل جاتی ہے اور انسانوں میں عبودیت نہیں رہتی اور عبودیت اور الُوہیت کا باہمی رشتہ ٹوٹ جاتا ہے۔انسان سرکشی اور بغاوت اختیار کرتا ہے تو اﷲ تعالیٰ