نعمت سمجھیں اور اس کی قدر کریں۔اس کی قدر یہی ہے کہ اس پر عمل کریں۔اور پھر دیکیھیں کہ خدا تعالیٰ کس طرح اُن کی مصیبتوں اور مشکلات کو دور کر دیتا ہے۔کاش مسلمان سمجھیں اور سوچیں کہ اﷲ تعالیٰ نے اُن کے لیے یہ ایک نیک راہ پدیا کر دی ہے اور وہ اس پر چل کر فائدہ اُٹھائیں۔
یقینا یاد رکھو کہ جو شخص سچے دل سے اﷲ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہے اور اس کی پاک کتاب پر عمل کرتا اور رسول اﷲ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے،تو اﷲ تعالیٰ اس کو لا انتہا برکات سے حصہ دیت اہے۔ایسی برکات اُسے دی جاتی ہیں جو اس دنیا کی نعمتوں سے بہت ہی۹ بڑھ کر ہوتی ہیں۔ان میں سے ایک عفو گناہ بھی ہے کہ جب وہ رجوع کرتا اور توبہ کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے گناہ بخش دیتا ہے۔دوسرے لگو اس نعمت سے بالکل بے بہرہ ہیں اس لیے کہ وہ اس پرا عتقاد ہی نہیں رکھتے کہ توبہ سے گناہ بھی بخشے جایا کرتے ہیں۔اُن میں سے بعض تو یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو ہم کو جونوں میں جونوں میں جانا پڑے گا اور معافی نہیں مل سکتی۔عیسائیوں کے اصول کے موافق مسیح کے خون پر ایک بار ایمان لا کر اگر گناہ ہو جاوے،تو پھر صلیبِ مسیح کوئی فائدہ نہیں دے سکتی کیونکہ مسیح دو مرتبہ صلیب پر نہیں چھے گا تو کای یہ بات صاف نہیں ہے کہ ان دونوں کے لیے بخشے جانے اور نجات کی راہ بند ہے کیونکہ صدورِ گناہ تو رُک نہیں سکتا۔اگر خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کا شکر نہ کرے تو یہ بھی گناہ یہ اور غفلت کرے تو یہ بھی گناہ ہے اور ان گناہوں پر بھی جونوں میں جانا پڑے گا یا مسیح کو دوبارہ صلیب نہیں دیا جائے گا، اس لیے کُلّی طور پر مایوس ہونا پڑے گا ،مگر اﷲ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہ تعلیم نہین دی۔ان کے لیے ہر وقت توبہ کا دروازہ کھُلا ہے۔جب انسنا اس کی طرف رجوع کرے اور اپنے پچھلے گناہوں کا اقرار کرکے اس سے خواستگارِ معافی ہو اور آئندہ کے لیے نیکیوں کا عزم کرے تو اﷲ تعالیٰ اُسے معاف کر دیتا ہے۔
سچی توبہ اور رجوع الیٰ اﷲ کی نصیحت
اس لیے میں کہتا ہوں کہ میری باتوں کو متوجہ ہو کر سنو۔ایسا نہ ہو کہ یہ باتیں صرف تمہارے کان تک ہی رہ جائیں اور تم اُن سے کوئی فائدہ نہ اٹھائو اور یہ تمہارے دل تک نہ پہنچیں۔نہیں بلکہ توجہ سے سنو اور اُن کو دل میں جگہ دو اور اپنے عمل سے دکھائو کہ تم نے اُن کو سرسری طور پر نہیں سنا اور اُن کا اثر اسی آن تک نہیں بلکہ گہرا اثر ہے۔
اس بات کو بخوبی یاد رکھو کہ گناہ ایسی زہر ہے جس کے کھانے سے انسان ہلاک ہو جاتا ہے اور نہ صرف ہلاک ہی ہوت ہے بلکہ وہ خد اتعالیٰ کا قرب حاصل کرنے سے رہ جاتا ہے اور اس قابل نہیں ہوتا کہ یہ نعمت اس کو مل سکے۔جس جس قدر گناہ میں مبتلا ہوتا ہے۔اسی اسی قدر خدا تعالیٰ سے