کی اَمانی ہیں۔ کیا گِلٹی اﷲتعالیٰ کے حکم کے بغیر نکل سکتی ہے؟ جب تک آسمان پر تغیر نہ ہو زمین پر کچھ نہیں ہو سکتا ۔ ان دونوں جب قادیان میں طاعون پڑی ہوئی تھی۔ ہم خداتعالیٰ کی قدرت کا عجیب نظارہ دیکھ رہے تھے۔ ہمارے گھر کے اِدھر اُدھر سے چیخیں آتی تھیں۔ اور ہمارا گھر درمیان میں اس طرح تھا جیسے سمندر میں کشتی ہوتی ہے۔ اس نے محض اپنے فضل و کرم سے اسے محفوظ رکھا جیسا اس نے فرمایا تھا۔ اور آئندہ بھی ہم اس کے فضل و کرم سے یقین رکھتے ہیں کہ ہماری حفاظت فرمائے گا۔
ہندوئوں کے ہاتھ سے پکا ہوا کھانا
اس کے بعد ایک شخص نے سوال کیا کہ کیا ، ہندوئوں کے ہاتھ کا کھانا درست ہے؟ فرمایا: شریعت نے اس کو مباح رکھا ہے۔ ایسی پابندیوں پر شریعت نے زور نہیں دیا بلکہ شریعت نے تو
قدافلح من زکھا ( الشمس:۱۰)
پر زور دیا ہے۔ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم آرمینیوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں کھا لیتے تھے اور بغیر اس کے گذارہ تو نہیں ہوتا ہے۔
تسبیح شماری
ایک شخص نے تسبیح کے متعلق پوچھا کہ تسبیح کرنے کے متعلق حضور کیا فرماتے ہیں؟ فرمایا: تسبیح کرنے والے کا اصل مقصود گنتی ہوتا ہے اور وہ اس گنتی کو پورا کرنا چاہتاہے۔ اب تم خود سمجھ سکتے ہو کہ یا تو وہ گنتی پوری کرے اور یا توجہ کرے۔ اور یہ صاف بات ہے کہ گنتی کو پوری کرنے کی فکر کرنے والا سچی توبہ کر ہی نہیں سکتا۔ انبیاء علیہم السلام اور کاملین لوگ جن کو اﷲتعالیٰ کی محبت کا ذوق ہوتا ہے اور جو اﷲتعالیٰ کے عشق میں فنا شدہ ہوتے ہیں انھوں نے گنتی نہیں کی اور نہ اس کی ضرورت سمجھی۔ اہل حق تو ہر وقت خداتعالیٰ کو یاد کرتے رہتے ہیں۔ ان کے لیے گنتی کا سوال اور خیال ہی بیہودہ ہے۔ کیا کوئی اپنے محبوب کا نام گن کر لیا کرتا ہے؟ اگر سچی محبت اﷲتعالیٰ سے ہو اور پوری توجہ الی اﷲ ہو تو میں نہیں سمجھ سکتا کہ پھر گنتی کا خیال پیدا ہی کیوں ہوگا۔ وہ تو اسی ذکر کو اپنی روح کی غذا سمجھے گا اور جس قدر کثرت سے کرے گا۔ زیادہ لطف اور ذوق محسوس کرے گا اور اس میں اور ترقی کرے گا۔ لیکن اگر محض گنتی مقصود ہو گی تو وہ اسے ایک بیگار سمجھ پورا کرنا چاہے گا۔؎ٰ