الفاظ میں یوں کہو کہ جس قدر مخلوقات انسان کے گناہوںکے طفیل ہے اور خدا تعالیٰ کو (معاذاللہ )اب تک ان پر کوئی رحم نہیں آتا اور وہ ایسا سخت دل پرمیشر ہے کہ وہ رحم کر ہی نہیں سکتا ۔
جب یہ عقیدہ رکھا جائے گاکہ ہر ایک گناہ کی سزامیں کئی کروڑ جُونوں میں جانا پڑے گاتو گناہ کی معافی اور رحم پرمیشر میں کہاں پایا گیا؟کیونکہ جُونوں کے اس چکر سے تو کبھی نجات ہی نہیں ہے ؛حالانکہ فطرتِ انسانی ایک ایسا خدا چاہتی ہے جو انسانی کمزوریوں پر رحم کرتا ہو ۔اور انسان کے نادم اور تائب ہونے پر اس کے قصوروں کو معاف کر دے ۔کیونکہ خود انسان میں بھی یہ وصف ایک حد تک پایا جاتا ہے ۔پھر تعجب کی بات ہوگی کہ انسان تو توبہ اور معافی پر قصور معاف کر دے اور خداتعالیٰ ایسا کینہ توز(معاذاللہ)ہو کہ اسے کسی طرح رحم ہی نہ آوے؟یہ خیال بالکل غلط اور باطل ہے بلکہ صحیح اعتقاد ہی ہے جو اسلام نے پیش کیا ہے کہ خداتعالیٰ بڑا ہی کریم اور رحیم ہے اور وہ سچّے رُجوع اور حقیقی توبہ پر گناہ بخش دیتا ہے ۔اس کے بالمقابل عیسائی جو کچھ پیش کرتے ہیںوہ اور بھی عجیب ہے۔وہ خدا تعالیٰ کو رحیم تو مانتے ہیں اور کہتے ہین کہ وہ رحیم ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ رحم بلا مبادلہ نہیں کرسکتا جب تک بیٹے کو پھانسی نہ دے لے اس کا رحم کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔تعجب اور مشکلات بڑھ جاتی ہیں ۔جب اس عقیدہ کے مختلف پہلوؤںپر نظر کی جاتی ہے اور پھر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو پھانسی بھی دیا۔لیکن یہ نسخہء رحم پھر بھی خطا ہی گیا سب سے پہلے تو یہ کہ یہ نسخہ اس وقت یاد آیاجب بہت سی مخلوق گناہ کی موت سے تباہ ہو چکی اور ان پر کوئی رحم نہ ہو سکا،کیونکہ پہلے کوئی بیٹا پھانسی پر نہ چڑھااور علاوہ بریں اگرچہ یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ زیدؔ کے سر میں درد ہوا اور بکرؔ اپنا سر پتھر سے پھوڑے اور یہ سمجھا جاوے کہ اس نسخہ سے زیدؔکو آرام آجاوے گالیکن اس کو بفرض ِمحال مان کر بھی اس نسخہ جو اثر ہوا ہے وہ تو بہت ہی خطر ناک ہے ۔جب تک یہ نسخہ استعمال نہیں ہوا تھا۔اکثر لوگ نیک تھیاور توبہ اور استغفار کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے احکام پر چلنے کی کوشش کیا کرتے تھے ۔مگر جب یہ نسخہ گھڑا گیاکہ ساری دنیا کے گناہ خدا کے بیٹے کی پھانسی پانے کے ساتھ معاف ہو گئے تو اس سے بجائے اس کے کہ گناہ رکتا، گناہ کا ایک اور سیلاب جاری ہو گیا اور وہ بندہ جو اس سے پہلے اللہ تعالیٰ کے خوف اور شریعت کا لگا ہوا تھا ٹوٹ گیا۔جیسا کہ یورپ کے حالات سے پتہ لگتا ہے کہ اس مسئلہ نے وہاں کیا اثر کیا ہے اور فی الحقیقت ہونا بھی یہی چاہئے تھا۔پھر جب یہ بات ہے اور حالت ایسی ہے تو ہم کیونکر تسلیم کریں کہ وہ خدا جو اس رنگ میں دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا وہ حقیقی خدا ہے۔