دیکھ لیت اہے۔پھر وہ اس سے خواہ باز بھی آئاوے مگر اُسے عیبی سمجھتا ہے لیکن ال تعالیٰ کیسا کریم ہیکہ انسان ہزاروں عیب کر کے بھی رجوع کرت اہے تو بخش دیتا ہے۔دنیا میں کوئی انسان ایسا نہیں ہے بجز پیغمبروں کے (جو خدا تعالیٰ کے رنگ میں رنگے جاتے ہیں) جو چشم پوشی سے اس قدر کام لے بلکہ عام طور پر تویہ حالت ہے جو سعدی نے کہا ہے ؎
خدا داند و بپوشد و ہمسایہ نداند و بخروشد
پس غور کرو کہ اس کے کرم اور رحم کی کیسی عظیم السان صفت ہے۔یہ بالکل سچ ہیکہ اگر وہ مؤاخذہ پر آئے تو سب کو تبہ کرودے،لیکن اس کا کرم اور رحم بہت ہی وسیع ہے اور اس کے غضب پر سبقت رکھتا ہے۔
اسلام اور دوسرے مذاہب میں خد اکا تصور
یہ دین یعنی اسلام جو سچا مذہب ہے اور جو نبی کریم ؐ کے ذریعہ ہم کو ملا ہے اس کی سچائی کی یہ زردست علمات ہے کہ انسنای ضمیر اور فطرت جس قسم کا خدا چاہتی ہے قرآن نے ویسا ہی خدا پیش کیا ہے یعنی اس قسم کے صھات سے متصف اسے بیان کیا ہے۔لیکن چونکہ مقابلہ کے بغیر کسی کی خوبی اور عمدگی کا پتہ نہیں لگ سکتا ۔اس لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کس قدر مقابلہ دوسرے مذاہب سے کیا جاوے؛ اگر چہ ہمارا یہ مذہب ہے کہ قرآن شریف سے ایسا ہی ثابت ہوت اہے کہ کل عالم کا یاک ہی خدا ہے۔لیکن جب ہم یہ کہتے ہیں کہ مثلاؔ ہندوؤن کا خدا۔تو اس سے یہ غرض ہوتی ہے کہ وہ خدا جو اپنے خیالات اور عقائد کے موافق ہندوئوں نے پیش کای ہے یا عیسئای جس قسم کا تسلیم کرتے ہیں۔نعوذ باﷲ یہ کبھی بھی خایل نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کسی اور خد اکی مخلوق ہیں۔
غرض جب ہم اس خد کا مقابلہ ان خدائوں سے (جو دوسرے لوگوں نے پیش کیے ہیں) کرتے ہیں تو صاف طور پر اقرار کرنا پڑتا ہے کہ وہ خد اجو قرآن شریف نے یا اسلام نے پیش کای ہے وہی حقیقٰ خد اہے۔مثلاؔ اسی مسئلہ عفو گناہ سے متعلق جب ہم غور کرتے ہیں تو جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔خواہ انسان کتنے ہی گناہ کرے ،لیکن جب سچے دل سے توبہ کر لے اور آئندہ کے لیے گناہوں سے باز آجاوے تو اﷲ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا اور اس کے گناہ بخش دیتا ہے،لیکن اس کے بالمقابل ہندوئوں نے جس خدا کو پیش کیا ہے وہ اس کے متعلق ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ وہ ایسا خد اہے کہ وہ ایک گنہ کے بدلے کروڑوں جونوں میں ڈالتا ہے اور جوئیں۔پسو۔درند۔چرند یہانتک کہ پانیا ور ہوا کے کیڑے یہ سب انسان ہی ہیں جو اپنیشامتِ اعمال کی وجہ سے سزائیں بھگتنے کے واسطے ان جونوں میں آئے ہوئے ہیں۔دوسرے