اکثر حاضرین رو رہے تھے۔نظم ختم ہو جانے کے بعد حضرت اقدس ؑ نے ذیل کی تقریر فرمائی۔ (ایڈیٹر) پیدائشِ انسانی کی غرض تمام مسلمان جو یہاں اکٹھے ہوئے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ ہر ایک کی غرض دین ہے۔یہ میں جانتا ہوں کہ کوئی تھوڑا جوش رکھتا ہے کوئی زیادہ ۔لیکن کچھ نہ کچھ غرض دین کی رکھتا ضررور ہے۔یقینا سمجھو کہ ہر شخص اپنے اندازہ کے موافق عمر کا ایک حضہ کھا چکا ہے۔بڑی عمر ہو گئی ہے تب بھی تھوڑے دن باقی ہیں اور تھوڑی ہے تب بھی تھورے ہی باقی ہیں۔کیونکہ گذرنے والے زمانہ کو ہمیشہ تھوڑا خیال کیا جاتا ہے۔پس یاد رکھو کہ انسان جو اس مسافر خانہ میں آتا ہے اس کی اصل غرض کیا ہے؟ اصل غرض انسنا کی خلقت کی ؎یہ ہے کہ وہ اپنے رب کو پہچانے۔اور اس کی فرمانبرداری کرے جیس اکہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا۔ ما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات : ۵۷) میں نے جن اور انس کو اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔مگر افسوس کی بات ہیکہ اکثر وگ جو دنیا میں آتے ہیں بلغ ہوین کے بعد بجئے اس کے کہ اپنے فرض کو سمجھیں اور اپنی زندیگ کی غڑض اور غایت کو مد نظر رکھیں، وہ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر دنیا کی طرف مائل ہو جاتے ہیں اور دنیا کا مال اور اس کی عزتوں کے ایسے دلدادہ ہوتے ہیں کہ خد اکا حضہ بہت ہی تھوڑا ہوتا ہے اور بہت لوگوں کے د میں تو ہتوا ہی نہیں۔وہ دنیا ہی میں منہمک او رفنا ہو جاتے ہیں’انہیں خبر بھی نہیں ہوتی کہ خدا بھی کوئی ہے ہاں اس وقت پتہ لگتا ہے جب قابض ارواح آکر جان نکال لیت اہے۔پس اس دھوکا سے خبردار رہو۔ایس انہ ہو کہ مرنے کا وقت آئاوے اور تم خالی کے خالی ہی رہو۔یہ شعر اچھا کہا ہے ؎ مکن تکیر بر عمر ناپائدار مباش ایمن از بازیٔ روزگار ایک دفعہ ہی پیام موت آجاتا ہے اور پتہ نہیں لگتا۔انسانی‘ ہستی بہت ہی ناپائدار ہے۔ہزار ہا مرضیں لگی ہوئی ہیں۔بعض ایسی ہیں کہ جب دامنگیر ہو جاتی ہیں تو اس جہاںن سے رخت کر کے ہی رخصت ہوتی ہیں۔ جبکہ حالت ایسی نازک اور خطرناک ہے تو ہر شخص کا فرض ہے کہ وہ اپنے خالق اور مالک خدا سے صلح کخرلے۔اسلام نے جو خدا پیش کای ہے اور مسلمانوں نے جس خد اکو مانا ہے وہ رحیم،کریم ،حلیم،تواب اور غفار ہیجو شخص سچی توبہ کرتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے اور اس کے گنہ بخش دیت ہے۔لیکن دنای میں خواہ حقیقی بھائی بھی ہو یا کوئی اور قریبی عزیز اور رشتہ دار ہو وہ جب ایک مرتبہ قصور