کہ تقویٰ کو ہاتھ سے نہ دو ارو خدا ترسی سے ان باتوں پر غور کرو اور تنہائی میں سوچو اور آخر اﷲ تعالیٰ سے دعائیں کرو کہ وہ دعائیں سنتا ہے۔؎ٰ ۲؍ستمبر ۱۹۰۴ء؁ بمقام لاہرو ایک روح پر ورمجلس کی روئیداد بعد نماز جمعہ حضرت عقدس ؑ زائرین اور مشتاقانِ زیارت کے اصرار و خواہش پر اجلاس فرما ہوئے۔حاضرین میں سے ہر ایک دوسرے سے پہلے آگے بڑھنا چاہتا تھا ان کے بڑھے ہوئے جوشِ زیارت اور شوقِ ارادت مٰں انتظام کا ہوان آسان نہ تھا۔دھکے پر دھکا کھاتے تھے اور آگے بڑھتے جاتے تھے۔آخر جب حضرت کا حکم سنا کہ بیٹھ جائو۔جو جہاں کھڑا تھا۔وہیں بیٹھ گیا۔وہ نظارہ جن لوگوں نے دیکھ اہے اس کا لطف اور اثر کچھ وہی دل محسوس کر سکتے ہیں۔حضرت حجۃ اﷲ کے انفاس طیبہ کا کچھ ایسا اثر پڑ رہا تھا کہ اس مجمع پر نگاہ ڈالنے سے اﷲ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کا پتہ لگتا تھا ارو صاف سمجھ میں آتا تھا کہ یہ جذ اور کشش کسی مفتری اور کذاب کو نہیں دیا جاتا۔آپ خاموس بیٹھے تھے کہ خاکسار ایڈیٹر الحکم نے ایک اادت مند کی طرف سے عرض کیا کہ وہ کچھ سنانا چاہت اہے۔فرمایا؍ ہاں سنا دو اس پر اس شخص نے نہایت پر درد اور پر جوش لہجہ میں بزبانِ پنجابی کچھ اشعار سنائے جن میں حضرت حجۃ اﷲ کی بعثت، آپ کی صداقت پر بحث ھی اور بالآخر اہل لاہور کو خطاب تھا کہ دیکھو مسیح موعود تمہارے گھر مہمان ہو کر آیا ہے۔تمہارا فرض تو یہ ہیکہ تم اس کا اکرام کرو نہ یہ کہ سب و شتم سے کام لو۔مہمانوں کے ساتھ اس قسم کا سلوک مناسب نہیں ۔اور پھر طاعون یک زور آور حملوں سے ڈرایا تھ۔یہ نظم بہت ہی مؤثر اور رقت خیز تھی جس کو سنکر