کو اس سے افضل قرار دو۔کیا تم نہیں جانتے کہ آپؐ کی وفات پر صحابہؓ کی کیا حالت ہوئی تھی۔وہ دیوانہ وار پھرتے تھے۔آپؐ کی زندگی کو اتنی عزیز تھی کہ حضرت عمرؓ نے تلوار کھینچ لی تھی کہ اگر کوئی آپ کو مردہ کہے گا تو میں اس کا سر اُڑادوںگا۔اس شور پر حضرت ابو بکرؓ آئے اور اُنہوں نے آگے بڑھ کر آپ ؐ کی پیشانی پر بوسہ دیا کہ آپؐ پر خدا تعالیٰ دو موتیں جمع نہ کریگا اور پھر یہ آیت پڑھی وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل (آل عمران : ۱۴۵) یعنی آنحضرت ﷺ بھی ایک رسول ہیں۔پہلے جس قدر رسول آئے ہیں۔سب وفات پا گئے ہیں۔صحاہؓ نے جب اس آیت کو سنا تو انہیں ایسا معلوم ہوا کہ گویا یہ آیت اب اتری ہے۔اُنہوں نے معلوم کیا کہ آپؐ کے مقابلہ میں کوئی اور زندہ نہیں ہے۔تم میں وہ عشق اور محبت نہیں جو صحابہ کو آنحضرت ﷺ سے تھے؛ ورنہ تم یہ کبھی روانہ رکھتے کہ مسیح کو آنحضرت ﷺ کے مقابل زندہ کہتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ اگر صحابہؓ کے سامنے اس وقت کوئی کہتا کہ حضرت عیسیٰ ؑزندہ ہیں تو اُن میں سے ایک بھی زندہ نہ رہتا وہ اس قدر آپؐ کے عشق اور محبت میں فنا شدہ تھے۔حسان بن ثابتؓ نے اس موقعہ پر ایک مرثیہ لکھا ہے، جس میں وہ کہتے ہیں: کنت السوادلناظری-فعمی علیک الناظر ۔ من شاء بعدک فلیمت-فعلیک کنت احاذر یعنی اے میرے پیارے نبی تُو تو میری آنکھوں کی پتلی تھا اور میرے دیدوں کا نور تھا پس میں تو تیرے مرنے سے اندھا ہو گیا۔اب تیرے بعد میں دوسروں کی موت کا کای غم کروں۔عیسیٰ ؑ مرے یا موسیٰ ؑمرے۔کوئی مرے۔مجھے تو تیرے ہی مرنے کا غم تھا۔صحابہؓ کی تو یہ حالت تھی۔مگر اس زمانہ میں اپنے مُنہ سے اقرار کرتے ہیں کہ نہیں افضل الانبیاء وفات پا گئے اور حضرت مسیح زندہ ہیں۔افسوس مسلمانوں کی حالت کیا ہسے کیا ہو گئی۔میں خوب جانتا ہوں اور اس واقعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ صحابہؓ کا پہلا اجماع مسیح کی وفات ہی پر ہوا تھا۔پھر اُن کے خلاف کرنا یہ کونسی عقلمندی اور تقویٰ ہے۔میں یہ مانتا ہوں۔کہ یہ غلطیاں امتدادِ زمانہ کی وجہ سے ہیں۔تقویٰ نہین رہا۔جہالت بڑھ گئی ہے۔روبحق ہونا کم ہو گیا ہے۔راہِ راست محجوب ہو گیا ہے اور یہی امور ہیں جو میری ضرورت کے داعی ہیں’میں آخر میں پھر کہت اہوں کہ ان باتوں پر غور کرو۔اپنے گھروں میں جا کر تنہائی میں سوچو کہ تم چاہتے ہو کہ اسلام اور سو سال تک آفتوں کا نشانہ بنا رہے اگر اب تک کوئی نہیں آیا تو ھپر صدی کا سر تو چلا گیا۔بائیس برس گذر چکے۔اب اور سو سال تک آفتوں کا نشانہ بنا رہے اگر اب تک کوئی نہین آیا تو ھپر صدی کا سر تو چلا گیا۔بائیس برس گذر چکے۔اب اور سو سال تک انتظار کرو۔لیکن یاد رکھو کہ اگر مجھے قبول نہ کرو گے تو پھر تم کبھی بھی آنے والے موعود کو نہیں پائو گے۔ میں نے اتنی باتیں کی ہیں۔بعض مخالفوں کو فائدہ کی بجائے جوش آئے گا اور وہ ہارجیت کی طرھ توجہ کریں گے یہ نہیں کہ رو رو کر دعائیں کریں اور اﷲ تعالیٰ سے توفیق اور مدد چاہیں۔میری یہی نصیحت ہے