ہونا، اس قسم کے بہت سے نشن ہیں جو اس زمانہ سے مخصوص تھے اور وہ پورے ہو گئے ہیں۔ایسا ہی کسوف و خسوف کا نسان جو رمضان میں ہوا۔یہ حدیث اکمال الدین اور دارقطنی میں موجود ہے۔پھر حج کا بند ہونا بھی نشان تھا وہ بھی پورا ہوا ۔ایک ستارہ نکلنے کی نشانی تھی وہ بھی نکل چکا۔طاعون کا نشان تھا وہ بھی پورا ہو گیا۔ غرض میں کہانتک بیان کرتا جائوں یہ ایک لمبا سلسلہ ہے۔طالب حق کے لیے اسی قدر کافی ہے۔ پھر تیسرا ذریعہ عقل ہے اگر عقل سے کام لیا جاوے اور زمانہ کی حالت پر نظر کی جاوے تو صاف طور پر ضرورت نظر آئی ہے۔غور سے دیکھو اسلام کی حالت کیسی کمزور ہو گئی ہے۔اندرونی طور پر تقویٰ طہارت اُٹھ گئی ہے۔اور امرو احکام ِ الٰہی کی بے حرمتی کی جاتی ہے اور ارکان اسلما کو ہنسی میں اُڑایا جاتا ہے اور بیرونی طور پر یہ حالت ہے کہ ہر قسم کے معترض اس پر حملہ کر رہے ہیں اور اپنی جگہ کوشش کرتے ہیں کہ اس کا نام و نشان مٹادیں۔ غرض جس پہلو سے دیکھو۔اسلام کمزور ہو گیا ہے۔وہ اسلما جس میں ایک بھی مرتد ہو جاتا تو قیامت آجاتی ۔اس میں تیس لاکھ مرتد ہو چکا ہے کیا ایسی حالت میں اﷲ تعالیٰ کا وعدہ انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر ص: ۱۰) پورا نہ ہوتا؟ اگر اب اسلام کی خبر نہ لی جاتی تو پھر اور کونسا وقت آنے والا تھا؟ پس از آنکہ من نہ مانم بچہ کار خواہی آمد کیا خد اتعالیٰ اس وقت نصرت کرے گا جب یہ نام مٹ جائے گا؟ ایک طرف حدیث میں یہ وعدہ کہ ہر صدی پر مجدد آئے گا مگر اس وقت جو عین ضرورت کا وقت ہیکہکوئی مجدد نہ آئے؟ تعجب ہے تم کیا کہہ رہے ہو۔حضرت موسیٰ علیہ السلم کا تو وہ زمانہ کہ اس میں متواترنبی آتے رہے اور یہ امت جو خری الامت کہلاتی ہے اور خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت ہے۔باوجود اُمت مرحومہ کہلانے کے اس میں جب آئے تو دجال آئے اور پھر ایک دو نہیں تیس دجال۔گویا خدا کو خطرناک دشمنی ہے۔وہ اس کو ایسا تباہ کرنا چاہتا ہے کہ نام و نشنا نہ رہے۔افسوس میری مخالفت میں یہ لوگ ایسے اندھے ہوئے ہیں کہا ﷲ تعالیٰ کے حضور شوخی اور بے ادبی کرنے سے باز نہیں آتے۔اس کو عملی طور پر وعدوں کا قرار دیتے ہیں ارو رسول اﷲ ﷺ کی ہتک شان کرتے ہیں۔ وفاتِ مسیح علیہ السلام دیکھو میں کھول کر کہتا ہوں کہ تم اپنے نفسوں پر رحم کرو۔اس پیغمبر کی شان میں جو افضل الرسل ہے یہ بے ادبی نہ کرو کہ حضرت مسیح