سوم- عقل کے ذریعہ۔ بعض اوقات یہ تینوں ذریعے جمع ہو جاتے ہیں اور اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ سب ذریعے میری سچائی کو ثابت کر رہے ہیں۔ پس نصوص کے لیے یاد رکھو کہ آنحضرت ﷺ نے بخاری اور مسلم میں جس آنے والے کی خبر دی یہ اس کے لیے یہی فرمایا ہے کہ وہ اسی اُمت میں سے ہوگا؛ چنانچہ بخاری اور مسلم میں منکم کا لفظ موجود ہے کہیں بھی نہیں فرمایا کہ من بنی اسرائیل ۔ اور قرآن شریف میں سورۂ نور میں استخلاف کے وعدہ میں بھی منکم ہی فرمایا ہے۔اب بتائو کہ قرآن اور حدیث کے نصوص آنے والے کو اسی امت سے ٹھہراتے ہیں یا باہر سے لاتے ہیں۔اور قرآن شریف یہی زمانہ مسیح موعود کے آنے کا ٹھہراتا ہے۔ دوم نشانات:وہ نشانات جو میری تائید میں ظاہر ہو چکے ہیں اور جو میرے ہاتھ پر پورے ہوئے ہیں۔اُن کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان کے زندہ گواہ اس وقت لاکھوں انسان موجو د ہیں۔میں نے اپنی کتاب نزول المسیح میں ڈیڑھ سو کے قریب نشان لکھے ہیں اور بعض کا میں نے ابھی ذکر بھی کیا ہے تا ہم وہ نشان جو میرے لیے ظاہر ہوئے وہ بھی تھوڑے نہیں ہیں۔اور انسانی طاقت میں یہ نہیں کہ وہ ان باتوں کو اپنے لیے خود جمع کرلے۔ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ مسیح موعود اس وقت آئے گا جب چھ ہزار سال کا دور ختم ہوگ ااور عیسائیوں اور یہودیوں کے نزدیک وہ وقت آگیا ہے۔ پھر قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے اور احادیث صحیحہ اس کی تصدیق کرتی ہیں کہ مسیح موعود کے زمانہ میں ایک نئی سواری پید اہوگی جس سے اونٹ بیکا رہو جائیں گے ۔جیس اکہ قرآن شریف میں ہے واذا العشار عطلت (التکویر : ۵) اور حدیث صحیح میں ہے۔ ولیتر کن القلاص فلا یسعی علیہا اب آپ لوگ جانتے ہیں کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان بھی ریل تیار ہو رہی ہے۔اس عظیم الشان پیشگوئی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک اخبار والے نے لکھا ہے کہ مکہ مدینہ والے بھی یہ نظارہ دیکھ لیں گے کہ اونٹوں کی قطاروں کی بجائے ریل گاڑی وہاں ثے گی۔قرآن شریف میں جو فرمایا واذاالعشار عطلت اس کے متعلق نواب صدیق حسن خاں نے لکھ اہے کہ عشار حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں اس لیے یہ لفظ اﷲ تعالیٰ نے اختیار فرمایا تا کہ یہ سمجھ آجاوے کہ اسی دنیا کے متعلق ہے کیونکہ حاملہ ہونا تو اسی دنیا میں ہوتا ہے۔ اسی طرح نہروں کا نکالے جانا۔چھاپے خانوں کی کثرت اور اشاعت کتب کے ذریعوں کا عام