وغیرہ وغیرہ۔
اب غور کا مقام ہے کہایک نبیٔ صادق کی نسبت یہ عقیدہ رکھنا کہ اس نے جھوٹ بولا یہ تو بے ایمانی ہے۔ایک شخص اگر عدالت کے سامنے جھوٹ بولے تو وہ حلفِ دروغی کی سزا پاتا ہے۔پھر علیم و خبیر عالم الغیب خد اکے حضور قیامت کے دن کسی نبی کو جھوٹ بولنے کی جرأت کب ہو سکتی یہ؟ ہرگز نہیں لیکن یہ عقیدہ جو میں نے ابھی بیان کیا ہے۔تسلیم کر لیا جاوے اور اس کوصحیح مانا جاوے تو پھر قرآن شریف چھوڑنا پڑے گا اور حضرت مسیح کا معاذ اﷲ خدا تعالیٰ کے حضور قیامت کے دن جھوٹ بولنے والا قرار دینا پڑے گا۔کیونکہ اگر یہ سچ ہے کہ وہی مسیح اُتر آئے گا، تو پھر خدا تعالیٰ کے سامنے ان کا یہ جواب کہ
فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم
صحیح نہیں۔کیونکہ ان کو تو اس وکت یہ کہنا چاہیے کہ چالیس سال تک آسمان سے اُتر کر پھر زمین پر رہا اور میں نے جنگیں کیں، صلیبیں توڑیں اور شریروں کو مارا۔کفار کو مسلمان کیا۔حالانکہ ان کے جاوب میں ان باتوں میں سے کسی کا کوئی اثر نہیں پایا جاتا۔پھر خدا کے واسطے سوچ کر جواب دو۔کیا تم یہ تجویز نہ کرو گے کہ حضرت مسیح نے معاذ اﷲ جھوٹ بوال؟ او ر کیا یہ نبی کی شان ہے کہ خدا کے سامنے جھوٹ بولے؟ جو شخص یہ اعتقاد رکھتا ہے اور قرآن پر حملہ کرتا ہے وہ بدذات اور جہنمی ہے۔ایسے لوگ اﷲ تعالیٰ کے نزدیک ملعون ہیں جو رسمی بات کے لیی قرآن شریف پر حملہ کرتے ہیں۔
پس یہ آیت مسیح کی وفات اور ان کی دوبارہ آمد کے متعلق قول فیصل ہے۔اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ وہ وفات پا چکے ہیں اور وہ دوبارہ نازل نہیں ہوں گے اور قرآن شریف سچا ہے اور حضرت مسیح ؑکا جواب بھی سچا ہے۔ہاں یہ امر کہ آنے والے مسیح سے پھر کای مراد ہے تو یاد رکھو جو کچھ خد اتعالیٰ نے مجھ پر ظہار کیا او راپنی تائیدوں اور نصرتوں اور نشانوں کے ساتھ اُسے ثابت کای۔وہ یہی ہے کہ آنیوالا اسی اُمت کا ایک فرد کامل ہے اور خدا تعالیٰ کی کھلی کھلی وحی نے ظاہر کای ہے ہ وہ آنے والا میں ہوں جو چاہے قبول کرے ۔میرا یہ دعویٰ نرا دعویٰ نہیں ہے بلکہ اسکے ساتھ زبردست ثبوت ہیں جو ایک سلیم الفطرت اور متقی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
مامور کی صداقت ثابت کرنے کے تین ذرائع
یاد رکھو کہ اﷲ تعالیٰ جب کسی مامور کو بھیجتا ہے تو تین ذریعوں سے اس کی سچائی کو ثابت کرتا اور اتمام حجت کرتا ہے۔
اول-نصوص کے ذریعہ یعنی شہادتوں سے اتمامِ حجت کرتا ہے۔
دوم-نشانات کے ذریعہ جو اس کی تائید میں اور اس کے لیے ظاہر کیے جاتے ہیں۔