ہے۔
پھر یہاں تک ہی بات نہیں۔خود حضرت مسیح ے کا تو صاف اقرار بھی موجود ہے اور اس آیت
فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم (المائدۃ : ۱۱۸)
سے تو اس سارے قضیہ کا فیصلہ ہی ہو جاتا ہے۔اس آیت سے پہلی آیتوں میں اس بات کا ذکر ہے کہ اﷲ تعالیٰ حضرت مسیح ؑ سے قیامت کے دن سوال کرے گا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ میری ماں کو اور مجھ کو خدا بنالو۔حضرت عیسیٰ اپنی بریت میں عرض کریں گے کہ میری کیا مجال تھی جو میں ایسی تعلیم دیتا۔میں تو جب تک اُن میں رہا اُن کو تیری توحید ہی کی تعلیم دیت ارہا جو تونے مجھے دی تھی لیکن جب تو نے مجھ کو وفات دیدی پھر تو ان پر نگران تھا۔
اب غور کا مقام ہے کہ انی متوفیک میں جو وعدہ تھا وہ اس آیت فلما توفیتنی سے پورا ہوتا ہے۔
ماسوا اس کے یہ آیت حضرت مسیح ؑ کی موت اور ان کی دوبارہ آمد کے متعلق ایک فیصلہ کن آیت ہے اور یہ اس قرآن کی آیت ہے جس کا حرف حرف محفوظ ہے اور جس کی حفاظت کا ذمہ دار خود اﷲ تعالیٰ ہے جیس اکہ اس نے فرمایا
انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون (الحجر : ۱۰)
افسوس مسلمانوں نے اس کتاب کی قدر نہیں کی۔اس آیت میں حضرت مسیح ؑ نے اپنی بریت دو صورتوں سے کی ہے۔اول تو یہ کہ میری زندگی میں عیسائی نہیں بگڑے کیونکہ میں ان کو توحید کی تعلیم دیتا رہا۔دوم جب مجھے وفات دیدی مجھے کچھ خبر نہیں۔
اب غور طلب امر یہ ہے کہ حضرت مسیح ابھی تک زندہ ہی ہیں۔تو صاحبو! پھر اُن کے اس اقرار کے موافق یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ابھی تک عیسائی بگڑے بھی نہیں اور جو تعلیم وہ پیش کرتے ہیں وہ صحیح ہے حالانکہ یہ واقعاتِ صحیح کے خلاف یہ۔عیسائی ضرور بگڑ چکے ہیں۔
صاحبو! اگر مسلمانوں کے اس خیالی عقیدہ زندہ آسمان پر جانے کو لے کر اور اس آیت کے موافق عیسائی مسلمانوں پر اعتراض کریں کہ ہماری تعلیم تمہارے اقرار کے موافق بگڑی نہیں ہے تو کیا جواب ہو سکت اہے۔کیونکہ یہ امر تو حضرت مسیحے کی زندگی سے وابستہ ہے اور زندگی تعلیم ہے تو ھپر دوسری تعلیموں کے انکار کے لیے کیا عذر یہ۔میں سچ کہتا ہوں کہ مسلمانوں کی خیر اسی میں ہے کہ وہ قرآن شریف پر ایمان لاویں اور وہ یہی ہے کہ مسیح ؑکی وفات پر ایمان لاویں۔
دوسری بات جو اس آیت میں فیصلہ کی گئی ہے وہ ان کی دوبارہ آمد کا مسئلہ یہ۔مسلمانوں میں غلطی سے یہ عقیدہ مشہور ہو گیا ہے جس کی کوئی اصل نہیں کہ وہی مسیح ابنِ مریم دوبارہ آسمان سے نازل ہوںگے اور چالیس برس تک اس دنیا میں رہیں گے۔صلیبوں کو توڑیں گے اور کافروں سے جنگ کریں گے